خطبات محمود (جلد 23) — Page 292
1942ء 292 خطبات محمود اونٹ سے کیا واسطہ اور تو کون ہے کہ اس پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا یارسول اللہ اگر جنگل میں مجھے کوئی آوارہ بکری مل جائے تو کیا میں اسے لے لوں۔ آپ نے فرمایا تو اسے لے جا کیونکہ اگر تو نے اسے نہ لیا تو کوئی بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ 3 تو دیکھو رسول کریم صلی الم نے آوارہ اونٹ پر قبضہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ اونٹ جنگل میں زندہ رہ سکتا ہے اور مالک کا حق ہے کہ اس کا انتظار کیا جائے لیکن آوارہ بکری کے متعلق آپ نے فرمایا کہ اس پر بے شک قبضہ کر لیا جائے کیونکہ اگر قبضہ نہیں کیا جائے تو بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ اگر ہندوستان میں بھی اونٹ جتنی طاقت ہوتی تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس پر قبضہ کرتا مگر جب وہ بکری بن گیا تو محمد صلی علیم کا یہ فیصلہ ہے کہ جو چاہے اسے لے لے۔ پس اگر ہندوستان کو انگریز نہ لیتے تو پرتگیز لے لیتے، پرتگیز نہ لیتے تو فرانسیسی لے لیتے، وہ نہ لیتے تو افغانستان اس پر قبضہ کر لیتا۔ افغانستان قبضہ نہ کر تا تو روس ہندوستان کو لے لیتا۔ بہر حال جس ملک میں اتنا شقاق ہو ، اتنا فساد ہو، اتنی لڑائیاں ہوں، اتنی بے غیرتی ہو، اتنی بے حسی ہو، اتنی جہالت ہو، اتنی بزدلی ہو ، اتنی دون ہمتی ہو اور اس قدر علم سے دوری ہو وہ ملک کبھی آزاد نہیں رہ سکتا تھا اور کوئی نہ کوئی اسے ضرور غلام بنالیتا جیسے میں نے بتایا ہے کہ عوام کا تو کیا ذکر ہے اس ملک کے بادشاہوں کی یہ حالت تھی کہ چار بادشاہوں کو برابر ہمارے آباء توجہ دلاتے رہے کہ پنجاب کی حالت خراب ہو رہی ہے ہم لڑ رہے ہیں مگر ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ اس فتنے کا کامیاب مقابلہ کر سکیں، ہماری امداد کے لئے مرکز سے فوج بھیجی جائے اور وہ چاروں بادشاہ یہ جواب دیتے ہیں کہ شاباش تم خوب مقابلہ کر رہے ہو۔ ہم بھی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی پنجاب میں نہیں آتا۔ یہاں تک کہ چاروں بادشاہ فوت ہو جاتے ہیں۔ یہ بے حسی کا ہی نتیجہ تھا ورنہ جن لوگوں میں جس اور غیرت ہوتی ہے وہ اور نہیں تو کم سے کم عزت سے جان دے دیتے ہیں اور ذلت کی زندگی برداشت نہیں کر سکتے مگر مسلمانوں نے اپنی بے حسی کی وجہ سے سکھوں کے حملہ کو معمولی سمجھا اور اس کے ازالہ کے لئے کوئی کوشش نہ کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تمام شان و شوکت جو انہیں حاصل تھی جاتی رہی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پردادا کا ہی واقعہ ہے کہ ایک سکھ رئیس ان سے