خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 290

* 1942 290 خطبات محمود ہی نہ ہو کہ اس غفلت کے کیا نتائج ہوا کرتے ہیں۔یہی چیز تھی جس نے ہندوستان کو انگریزوں کا غلام بنا دیا۔جس وقت انگریز ہندوستان میں آئے ہیں ان کی تعداد دو چار سو سے زیادہ نہیں تھی۔ایک ہندوستانی تو شرم کے مارے زمین میں گڑ جاتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ دو چار سو آدمی چھ ہزار میل سے آئے اور انہوں نے 33 کروڑ آبادی رکھنے والے ملک کو فتح کر لیا۔یہ اسی بے حیائی کا نتیجہ تھا جو اس وقت ہندوستانیوں میں عام طور پر پائی جاتی تھی کہ یہاں لڑائیاں ہوئیں تو انہوں نے سمجھا یہ تو بمبئی میں لڑائی ہو رہی ہے۔ہمیں اس سے کیا یا وہ تو بنگال میں لڑائی ہو رہی ہے۔ہمیں اس سے کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ تمام ہندوستان ان کے قبضہ سے نکل گیا۔آج وہ شور مچاتے ہیں کہ انگریزوں نے ان پر بڑا ظلم کیا لیکن اپنی بے حیائی اور بے غیرتی کا ان کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔جب وہ اس قدر بے غیرت بن چکے تھے تو اگر انگریز اس ملک پر قبضہ نہ کرتے تو فرانسیسی کر لیتے ، فرانسیسی نہ کرتے تو پر تگیز کر لیتے۔جو لوگ ایسے بے غیرت ہو جائیں کہ ان کے دلوں میں اپنے ملک کے جانے کا ذرا بھی احساس نہ رہے۔انہوں نے تو بہر حال دوسروں کا غلام بنا تھا۔ایک نہ آتا دوسرا آجاتا، وہ نہ آتا تو تیسرا آجاتا۔دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی ملک میں ایسی مثال ملتی ہو کہ چند سو آدمی اس ملک میں گئے ہوں اور انہوں نے 33 کروڑ باشندوں پر غلبہ پالیا ہو۔میں تو جب بھی ہندوستان کی پرانی تاریخ پڑھتا ہوں پسینہ پسینہ ہو جاتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگ کیسے بزدل اور کم ہمت تھے کہ انہوں نے 33 کروڑ ہوتے ہوئے چند سو لوگوں کو اپنے اوپر غالب آنے کا موقع دے دیا۔پھر ان میں بے غیرتی یہاں تک بڑھ چکی تھی کہ ہمارے خاندان کی مسلمان بادشاہوں سے جو خط و کتابت ہوتی رہی ہے اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ہمارے پر دادا بادشاہ وقت کو دہلی میں برابر توجہ دلاتے رہے کہ پنجاب میں سکھوں کا زور بڑھ رہا ہے ہم ان کا مقابلہ تو کر رہے ہیں مگر ہماری چھوٹی سی ریاست ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔آپ مرکز سے فوج بھیجیں تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جائے اور پنجاب کو جو خطرہ لاحق ہو گیا ہے وہ دور ہو جائے۔مجھے حیرت آتی ہے اس زمانہ کے بادشاہوں کی بے غیرتی پر ، مجھے حیرت آتی ہے اس زمانہ کے بادشاہوں کی بے حسی پر ، اور مجھے حیرت آتی ہے ان کی بے توجہی