خطبات محمود (جلد 23) — Page 285
* 1942 285 خطبات محمود ان قوموں اور حکومتوں کے مقابلہ میں مسلمان آئے مگر باوجود اس کے کہ وہ تعداد میں بہت کم تھے ، فنون جنگ سے پوری طرح آشنا نہ ہوتے تھے، سامان اور اسلحہ ان کے پاس بہت تھوڑا ہو تا تھا پھر بھی مسلمان بہت کم مارے جاتے تھے اور ان کے دشمن بہت زیادہ مارے جاتے تھے۔یہاں تک کہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے۔بعض دفعہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں دس دس، میں ہیں، پچاس پچاس، سو سو سیکھے ہوئے سپاہی آئے مگر نتیجہ ہمیشہ یہی نکلتا رہا کہ وہ ماہر اور فنون جنگ سیکھے ہوئے سپاہی مارے جاتے تھے اور مسلمان نہیں مرتے تھے حالانکہ ان کے پاس اپنی حفاظت کے کوئی سامان نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض دفعہ وہ سامانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے ان کو پھینک دیتے تھے۔حضرت ضرار کا ایک مشہور واقعہ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں ایک عیسائی دشمن مسلمانوں کے مقابلہ میں نکلا اور اس نے یکے بعد دیگرے دو چار مسلمانوں کو مار ڈالا۔وہ شخص فنون جنگ کا ماہر اور دشمنوں میں بہت بہادر سمجھا جاتا تھا۔جب دو چار مسلمان اس کے مقابلہ میں آکر شہید ہو گئے تو حضرت ضرار اس کے مقابلہ کے لئے نکلے مگر جب وہ اس کے سامنے گئے تو کھڑے ہوتے ہی گھبر ا کر اپنے خیمہ کی طرف دوڑ پڑے۔صحابہ کہتے ہیں اس وقت ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہماری ناک کٹ گئی ہے اور ہم نے اپنے دلوں میں سخت ذلت محسوس کی کہ ضرار جسے ہم اتنا بہادر اور دلیر سمجھتے تھے وہ کیسا بز دل نکلا کہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہی وہاں سے بھاگ آیا اور تیزی سے اپنے خیمہ کی طرف چلا گیا۔ان کے ایک دوست تھے انہوں نے جب ضرار کو اس طرح دوڑتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے خیمہ کی طرف گئے۔جب وہ قریب پہنچے تو حضرت ضراڈ پھر خیمہ سے باہر نکل رہے تھے۔اس نے ضرار سے مخاطب ہو کر کہا ضرار آج تم نے یہ کیا کیا۔تمہارے جیسے آدمی سے ہم یہ امید نہیں کر سکتے تھے کہ تم میدان جنگ سے اس طرح بھاگ آؤ گے۔تمہارے اس فعل کے نتیجہ میں مسلمان اپنے دلوں میں سخت ذلت محسوس کر رہے ہیں اور وہ حیران ہیں کہ تم نے یہ کیا حرکت کی۔ضرار نے کہا میرے دوست تم نہیں جانتے کہ واقعہ کیا ہوا۔واقعہ یہ ہے کہ جب میں اس عیسائی جرنیل کے مقابلہ میں نکلا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے اس وقت مجھے خیال آیا کہ اے ضرار! کیا تو