خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 274

خطبات محمود 274 * 1942 17 سال کے قریب تھی اور میرے سپرد آپ کی دوائی وغیرہ پلانے کی خدمت تھی اور قدرتی طور پر جس کے سپر د کوئی کام کیا جائے وہ اس میں دخل دینا بھی اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔میں بھی اپنی کمپاؤنڈری کا یہ حق سمجھتا تھا کہ کچھ نہ کچھ دخل آپ کے کھانے پینے میں دوں۔چنانچہ مشورہ کے طور پر عرض کر بھی دیا کرتا تھا کہ یہ نہ کھائیں ، وہ نہ کھائیں۔حضرت خلیفة المسیح الاول کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی۔مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔یہ 1907ء کا واقعہ ہے اور عبد الحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب سل کی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوں گے۔اس لئے ہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض اوقات ایسا لمبا او چھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے اور تحفہ کے طور پر پھل لائے۔میں نے وہ حضور کے سامنے پیش کر دیئے۔آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا کہہ دو جَزَاكَ اللهُ اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اٹھایا۔اور میں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اس لئے شاید مجھے سبق دینے کے لئے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے؟ میں نے کہا اچھا تو نہیں ہو تا مگر آپ مسکر اپڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔میں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانسی میں اچھی نہیں۔آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔میں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہئے۔اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔چنانچہ کھانسی اُسی وقت سے جاتی رہی حالا نکہ اُس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ پر ہیز کیا بلکہ بد پرہیزی کی اور کھانسی بھی دور ہو گئی۔اگر چہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہو تا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوتی تھی۔تو یہ الہی تصرف ہے۔یوں تو بد پر ہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت بھی ہوتی ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے دخل بھی دے دیتا ہے اور دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہے کہ میں آزادی نہیں چاہتا میں اپنے حالات سے تنگ آگیا ہوں، آپ مہربانی کر کے میرے معاملات میں دخل دیں اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ متوکل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کے معاملات میں