خطبات محمود (جلد 23) — Page 273
* 1942 273 خطبات محمود آئے بائیں بھی آئے اور موتیں پیدا کیں، سامنے بھی گئے اور موتیں پیدا کیں اور پچھواڑے بھی گئے اور وہاں بھی موتیں پیدا کیں۔طاعون کے کیڑوں نے آپ کے مکان کے چاروں طرف چکر لگائے مگر کوئی کیڑا آپ کے مکان میں داخل نہ ہو سکا۔اگر سب کچھ سامانوں کا ہی نتیجہ ہوتا تو یہ کیا چیز تھی جس نے طاعون کے کسی کیڑے کو آپ کے گھر میں داخل نہ ہونے دیا۔یہ نظارہ بتاتا ہے کہ گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے مگر کبھی کبھی وہ دخل بھی دیتا ہے اور جب وہ دخل دے تو سارے سامان بے کار ہو جاتے ہیں چنانچہ اس نے فرمایا کہ ہم نے طاعون کے کیڑے کو بے کار کر دیا ہے اور وہ اب آپ کے گھر میں نہ جاسکے گا۔یا لیکھرام کا واقعہ بھی اس امر کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہے تو صحت کے تمام سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا کہ عید کے دوسرے دن اس کی موت ہو گی اور چھ سال کے اندر اندر۔اب چھ سال تک سال میں دو تین روز کے لئے حفاظت کے خاص طور پر سامان کر لینا کونسا مشکل امر ہے اور یہ اس کے اختیار میں تھا کہ ان دنوں میں حفاظت کے خاص سامان مہیا کر لیتا مگر باوجود اس کے خد اتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کر دیا حالانکہ ظاہری سامان اس کے خلاف تھے۔6مارچ اس کی موت مقدر تھی اور یکم مارچ کو لیکھرام کو سبھا کی طرف سے ملتان پہنچنے کا حکم ہوا۔وہاں چار مارچ تک اس نے چار لیکچر دیئے پھر سبھانے اسے سکھر جانے کے لئے تار دیا مگر وہاں پلیگ ہونے کی وجہ سے ملتان کے آریہ سماجیوں نے وہاں جانے سے روک دیا۔پھر پنڈت لیکھرام مظفر گڑھ جانے کے لئے تیار ہوئے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ پھر سیدھے کیوں لاہور کو کوٹ پڑے اور چھ مارچ دو پہر کو یہاں پہنچ گئے۔اگر وہ اس روز واپس نہ آتا تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوتی مگر باوجود اس کے کہ بظاہر اس کے باہر رہنے کا موقع پید اہو گیا پھر بھی وہ لاہور پہنچ گیا اور وقت مقررہ پر قتل ہو گیا۔یہ مثال اس امر کی ہے کہ صحت اور حفاظت کے سارے سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی انسان ہلاک ہو سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان کے کاموں میں دخل دیتا ہے لیکن اس نے اسے آزاد بھی چھوڑا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے دو تین سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شدید کھانسی ہوئی۔میری عمر اس وقت