خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 26

* 1942 26 خطبات محمود ایک دوسرے کی پیٹھوں پر بھی سجدہ کر سکتے ہیں پھر بھی جو لوگ بعد میں آئیں گے ان کو باہر کھڑا ہو کر نماز پڑھنی پڑے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی گیلی ہو گی۔پھر جن کو نماز کے لئے چل کر آنا پڑا ہے۔ان کو کیچڑ میں تکلیف ہوئی، کپڑے خراب ہوئے یا جن کو سودا سلف کے لئے جانا پڑے گا ان کو کیچڑ میں سے گزرنا پڑے گا پھر جن لوگوں نے وقت پر مکانوں کی چھتوں پر لپائی نہیں کرائی ان کی چھتیں ٹپکتی ہوں گی۔جس سے ان کو تکلیف ہو گی۔بعض لوگوں کے پاس جانور باندھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔عام حالت میں تو وہ صحن میں باندھ لیتے ہیں مگر ایسی بارش اور سردی میں انہیں ان کو اپنے کمروں میں باندھنا پڑتا ہے اور وہ وہیں گوبر وغیرہ کرتے ہیں، ان کو بدبو آتی ہے ، تکلیف ہوتی ہے مگر وہ مجبور ہیں۔تو جہاں بارش اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہاں اس میں کچھ تکلیف کے پہلو بھی ہیں۔پھر اس میں اندھیرا ہوتا ہے۔بعض اوقات کڑک ہوتی ہے جس سے بچوں اور کمزور لوگوں کے دل ہل جاتے ہیں۔بعض اوقات کمزور بچے ڈر سے مر بھی جاتے ہیں۔پھر بارش میں بعض اوقات بجلی بھی چمکتی ہے اور کبھی گرتی بھی ہے جس سے جان ومال کا نقصان ہو جاتا ہے اور یہ سب اس میں تکلیف کے پہلو ہیں۔مگر اس فضل کے مقابلہ میں لوگ ان تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔سب جانتے ہیں کہ بارش ہو گی تو اس کے ساتھ کیچڑ بھی ہو گا۔کیا کوئی ایساز میندار بھی ہے جو سمجھتا ہو کہ بارش ہو گی تو زمین گیلی نہ ہو گی اور کیچڑ نہ ہو گا یا پھر کوئی ایساز میندار ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ بارش ہونے سے سردی بڑھ جائے گی۔پھر کوئی نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ بارش کے ساتھ کڑک بھی ہوتی ہے۔بعض اوقات بجلی بھی گرتی ہے جس سے لوگوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔سب ان باتوں کو جانتے ہیں مگر پھر بھی یہی دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ بارش ہو ، یا اللہ بارش ہو۔وہ کیوں یہ دعائیں کرتے ہیں جب بارش سے تکلیف بھی ہوتی ہے۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ بارش کے ساتھ جو فضل ہوتا ہے اس سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں تکلیف بہت کم ہے۔یہی حال انبیاء کی بعثت کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب انبیاء آتے ہیں تو ان کی مثال بھی بارش کی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظلمت و رعد و برق - 1 جس طرح بادلوں میں سے بارش ہوتی ہے تو جہاں اس کے بے شمار