خطبات محمود (جلد 23) — Page 257
1942ء 257 خطبات محمود ہوں ہماری جماعت چونکہ فوجی فنون سے نا آشنا ہے۔ اس لئے اسے سب سے زیادہ فوجی کاموں میں حصہ لینا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کے اندر جرات اور دلیری پیدا ہو۔ ہمارے ملک میں سکھ بہت تھوڑے ہیں مگر عام طور پر لوگ ان سے ڈرتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ زیادہ تر فوج میں ملازم ہیں اور فوجی کاموں کی وجہ سے وہ نڈر ہو جاتے ہیں تو فوجی خدمت قوم کو بہادر بناتی اور اس کے افراد کے اندر جرات اور بہادری پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح انتظام کی پابندی کی عادت بھی فوج میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ مشہور ہے کہ کوئی فوجی کسی جگہ چوری کے لئے گیا جس گھر میں وہ چوری کرنے کے لئے داخل ہوا وہ آدمی ہو شیار تھا۔ اس نے سمجھ لیا کہ کوئی فوجی چوری کرنے کے لئے آیا ہے۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد یکدم اسے کہنے لگا۔ اٹن شن۔ اسے چونکہ پریڈ میں اٹنشن کے لفظ پر ساکت کھڑا ہونے کی عادت تھی اس لئے یہ سنتے ہی وہ فوراً سیدھا کھڑا ہو گیا اور گھر والے نے اسے پکڑ لیا۔ یہ تو خیر لطیفہ ہے اصل سبق اس میں یہ دیا گیا ہے کہ فوجی زندگی نظام کی پابندی کا سخت عادی کر دیتی ہے۔ نوجوانوں میں عام طور پر آوارگی ہوتی ہے اگر وہ فوج میں چلے جائیں تو ان کی آوارگی بالکل دور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح افسر کی بات نہ ماننے کی عادت بھی بعض نوجوانوں میں ہوتی ہے اور اس نقص کا ازالہ بھی فوج میں ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں خدام الاحمدیہ کا ایک جلسہ ہوا جس میں ایک شخص باتیں کرنے لگ گیا یا افسر نے خیال کیا کہ وہ بول رہا ہے۔ بہر حال خدام الاحمدیہ کے افسر نے اسے کہا کہ وہ کھڑا ہو جائے مگر اس نے کھڑا ہونے سے انکار کر دیا پھر وہ اسے میرے پاس لائے اور میں نے بھی اسے کہا کہ وہ سزا کو قبول کرلے مگر یہی کہتا رہا کہ میرا قصور کیا ہے؟ حالانکہ قصور ہو یا نہ ہو جب ایک افسر نے سزادی ہے تو چاہے وہ غلط ہی ہو اطاعت کا تقاضا یہی ہے کہ اس سزا کو قبول یہی کیا جائے۔ انگریزی فوج کے متعلق کسی نے یہ لطیفہ لکھا ہے کہ کوئی افسر پریڈ کرا رہا تھا۔ اور اس کی اپنے کسی ما تحت سپاہی سے عداوت تھی۔ پریڈ کراتے کراتے اس نے کہا کہ سپاہی نمبر فلاں تمہارا قدم ٹھیک نہیں پڑتا میں تمہیں کواٹر گارڈ میں بھیجتا ہوں۔ سپاہی نے کہا میر اقدم بالکل ٹھیک ہے۔ اس پر افسر کہنے لگا دیکھو سپاہی نمبر فلاں تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے مگر چونکہ تم