خطبات محمود (جلد 23) — Page 248
* 1942 248 خطبات محمود لوگ زیادہ مالدار ہوتے ہیں جب انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے تو وہ بھاؤ بڑھا دیتے ہیں۔مثلاً دودھ کا بھاؤ آٹھ سیر ہو اور کسی امیر کو اس بھاؤ دودھ ملنے میں ذرا بھی دقت ہو تو وہ کہہ دے گا اچھا مجھے سات سیر ہی دے دو۔دوسرا کہے گاسات سیر نہیں دیتے تو چھ سیر ہی دے دو تو باوجود اس بات کے کہ اگر وہ صبر کریں اور اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے کی عادت ڈالیں تو انہیں بھی سستی چیز مل سکتی ہے۔محض اس وجہ سے کہ ان کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ صبر نہیں کر سکتے اور اس طرح بازار کا بھاؤ بگاڑ دیتے ہیں ہماری لاہور کی جماعت کے ایک نہایت ہی مخلص دوست تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے شیدائی تھے۔شروع شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ ان کے ذریعہ اپنے سودے منگوایا کرتے تھے۔گو آخر میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی جو مفرح عنبری کے موجد تھے ان کے سپر د یہ خدمت ہو گئی تھی۔وہ دوست نہایت مخلص اور اچھے عہدہ پر تھے۔جب بھی قادیان آتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ضرور کوئی تحفہ لاتے مگر لاہور کے دوست ہنسا کرتے تھے کہ اُن کی عادت ہے کہ دکاندار کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں سیب کس طرح دیتے ہو ؟ وہ اگر کہتا ہے عام سیب تو روپیہ کے ہیں ہیں مگر اچھے سیب روپیہ کے سولہ ہیں تو یہ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ میں نے سیب حضرت صاحب کے لئے لے جانے ہیں تم روپے کے مجھے بارہ سیب دو مگر اچھے دو۔اس پر وہ وہی سیب جو روپے کے ہیں یا سولہ بکتے ہیں دے دیتا ہے۔غرض صرف ریٹ کے بڑھانے سے چیز اچھی نہیں ملتی بلکہ غور اور فکر اور تلاش سے اچھی چیز ملا کرتی ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جن کے پاس روپیہ ہو تا ہے وہ ایسے موقع پر جلد بازی سے کام لے کر ریٹ بڑھا دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دس پندرہ یا بیس آدمی جو مالدار ہوتے ہیں اور جو در حقیقت ریٹ کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں۔وہ تو خریدتے رہتے ہیں مگر غریبوں پر مصیبت آجاتی ہے کیونکہ ان کے لئے بھی ریٹ بڑھ جاتے ہیں اور ان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس ریٹ پر چیز خرید سکیں۔پھر اس کا اثر دکانداروں پر بھی پڑتا ہے جب گاہک زیادہ ہوں تو دکاندار زیادہ مال خریدتا ہے جو اسے سستا پڑتا ہے مگر جب گاہک کم ہو جائیں تو مال زیادہ خرید نہیں سکتا اور جو