خطبات محمود (جلد 23) — Page 24
1942ء 24 3 خطبات محمود انبیاء کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف ہوتی ہیں مومن کو دلیری سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے )فرمودہ 16، جنوری 1942ء( تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں یہ اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے۔ میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریم صلی الم جمعہ کی نماز سے قبل سنتیں پڑھا کرتے تھے میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ نماز ظہر کی پہلی سنتوں سے مختلف ہیں۔ ان کو در اصل رسول کریم صلی الم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔ سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی علیہم جائز ہے اور چھوڑنا بھی جائز ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ کے