خطبات محمود (جلد 23) — Page 237
* 1942 237 خطبات محمود کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے وہ فرشتے بن جاتے ہیں اور جب وہ فرشتے ہو گئے تو مر کیسے سکتے ہیں۔فرشتے نہیں مرا کرتے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ شہداء کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔پس گو ان مقامات کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ مسلمان ان کی حفاظت کے فرض سے آزاد ہو گئے ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہر سچا مسلمان ان کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوشش کرے جو اس کے بس میں ہے۔یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کسی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے۔ادنی ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے۔یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دے دے مگر ہم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطر ناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل سے ان کی حفاظت فرمائے۔وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کے لئے آسمان سے وبا بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے پچل دے۔جنگ کے ہولناک اثرات کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کا کچھ مزہ چکھا ہو، برما سے ہندوستانی واپس آ رہے ہیں۔ان کے حالات سنو تو دل لرز جاتا ہے، کانپ اٹھتا ہے اور زندگی حقیر نظر آنے لگتی ہے۔وہاں گیارہ لاکھ ہندوستانی بستے تھے۔ان کو وطن پہنچانے کا کوئی ذریعہ انگریزوں کے پاس نہ تھا۔اس لئے وہ لوگ پہاڑی راستوں سے پیدل چلے پانچ سو میل لمباراستہ ہے۔مجھے ایسے لوگ ملے ہیں جنہوں نے راستہ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ماں نے بچہ کو گود میں اٹھایا ہوا ہے اور چلی آرہی ہے کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔پچاس ساٹھ یا ستر استی میں چلنے کے بعد پیر زخمی ہو گئے قدم لڑکھڑانے لگے حتی کہ خالی قدم اٹھانا بھی مشکل ہو گیا۔چہ جائیکہ بچہ کو اٹھا کر چل سکے آخر اس نے مجبور ہو کر درخت کے نیچے بچہ کو لٹا دیا اسے پیار کیا اور آگے چل پڑی۔ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ چلا آ رہا ہے، بیوی تھک کر چور ہو چکی ہے اسے سہارا دیئے لئے آ رہا ہے۔عورت