خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 229

* 1942 229 خطبات محمود انہوں نے سمجھا کہ انہوں نے انگریزی فوجوں کو بالکل کچل دیا ہے۔پھر انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور دشمن کے ایک لاکھ سے زیادہ سپاہی قید کر لئے اور یہ خبریں آنے لگیں کہ وہ شاید ٹریپولی میں داخل ہو جائیں گی جو لیبیا کے آخر پر اس علاقہ کا صدر مقام ہے مگر یکدم انگریزی فوجوں کو پھر شکست ہوئی۔ان کے پندرہ بیس ہزار سپاہی قید کر لئے گئے۔جن میں دو بڑے جرنیل بھی تھے اور ایک جرنیل تو وہ قید کر لیا گیا جو جنگی سکیمیں بنایا کرتا تھا۔ان کے بڑے بڑے ٹینک تباہ ہو گئے اور انگریزی فوجیں اس طرح پیچھے ہٹیں کہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ بالکل تباہ ہو جائیں گی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر توفیق دی اور وہ دشمن کو دھکیلنے لگیں۔اس کے 35 ہزار سپاہی قید کر لئے اور یہ خبریں مشہور ہونے لگیں کہ اب دشمن نہیں ٹھہر سکے گا مگر دشمن نے پھر انگریزی فوجوں کو دھکیلا اور مصری سرحد پر لے آیا اور تیس ہزار سپاہی قید کر لئے ہیں۔یہ سب واقعات سوچنے والے کے لئے اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ایک واضح ثبوت ہیں۔لوگ مبصروں سے رائے لیتے ہیں، منجموں سے پوچھتے ہیں مگر ان کی سب باتیں قیاسی اور وہمی ہوتی ہیں۔کوئی کسی لڑکی کے متعلق پوچھتا ہے کہ بتاؤ اس کے کیا اولاد ہو گی تو وہ ایک پر زہ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ اتنے عرصہ کے بعد اسے کھول کر دیکھنا۔جب لوگ دیکھتے ہیں تو اس میں لکھا ہوتا ہے لڑکا نہ لڑکی۔اگر تو لڑ کی ہو جاتی ہے اور منجم سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے تو لکھا تھا لڑکا ہو گا تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے تو لکھا تھا کہ لڑکا نہ ہو گا لڑکی ہو گی۔اگر لڑکا ہوتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے لکھا تھا کہ لڑکا نہ ہو گا لڑکی ہو گی تو وہ کہہ دیتا ہے میں نے لکھا تھا کہ لڑکا، نہ لڑکی۔اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے لکھا تھا کہ لڑکا نہ لڑکی کچھ بھی نہ ہو گا۔گویا وہ تینوں امکانی پہلو مد نظر رکھ کر جواب دے دیتے ہیں۔یہی حال ان لوگوں کا ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔مگر یہ کتنی واضح پیشگوئی تھی جو خدا تعالیٰ نے مجھے بتائی اور یہ ایک ایسے وقوعہ کی خبر تھی کہ جس کی مثال کم کیا کوئی ملتی ہی نہیں۔پھر ایک اور بات جو اس میں بتائی گئی یہ ہے کہ اگر میں اور احمدی جماعت دعا کرے تو انگریزوں کو کامیابی ہو سکتی ہے کیونکہ امام جماعت کا بھی قائمقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے کہ اگر ہماری جماعت دعا کرے تو وہ اس فتنہ کو دور کر سکتا ہے۔