خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 223

* 1942 223 خطبات محمود تمام لوگ مل کر عبد الرحمان کا استقبال کرنے کے لئے جائیں اور مذاق کے طور پر اس سے سوال کریں کہ جناب کی عمر کیا ہے۔جب وہ جواب دے گا تو خوب ہنسی اڑائیں گے چنانچہ اس سکیم کے مطابق وہ شہر سے دو تین میل باہر اس کا استقبال کرنے کے لئے آئے۔اُدھر سے گدھے پر سوار عبد الرحمان ابن ابی لیلی بھی آنکلے۔کوفہ کے تمام لوگ صفیں باندھ کر کھڑے تھے اور سب سے اگلی قطار بوڑھے سرداروں کی تھی۔جب عبد الرحمان ابن ابی لیلی قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا۔کیا آپ ہی ہمارے گورنر مقرر ہو کر آئے ہیں اور عبد الرحمان آپ کا ہی نام ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر ان میں سے ایک بہت بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور اس نے کہا جناب کی عمر ! عبد الرحمان نے کہا میری عمر ! تم میری عمر کا اندازہ اس سے لگالو کہ جب رسول کریم صلی الم نے اسامہ بن زید کو دس ہزار صحابہ کا سر دار بنا کر بھیجا تھا جس میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے تو جو عمر اُس وقت اسامہ بن زید کی تھی اُس سے ایک سال میری عمر زیادہ ہے۔یہ سنتے ہی جیسے اوس پڑ جاتی ہے وہ پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب تک یہ لڑکا یہاں رہے خبر دار ! تم نے بولنا نہیں ورنہ یہ کھال ادھیڑ دے گا چنانچہ انہوں نے بڑے عرصہ تک گورنری کی اور کوفہ والے ان کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔یہ اتنا زبر دست لائق نوجوان تھا کہ بچپن میں انگریزی کی جو ریڈریں ہمیں پڑھائی جاتی تھیں ان میں بھی ان کے قصے درج ہوتے تھے نام تو نہیں لکھا ہوتا تھا صرف سگیشس قاضی (Sagacious Qazi) یعنی عظمند قاضی لکھ کر ان کے کئی فیصلے قصوں کہانیوں کے رنگ میں لکھے ہوتے تھے۔انگریزوں نے نظموں کی شکل میں بھی ان کے کئی فیصلے نقل کئے ہیں۔تو جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اسے کسی دنیوی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔نہ بڑی عمر کی اسے ضرورت ہوتی ہے، نہ دولت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ظاہری علم کی بھی اسے ضرورت نہیں ہوتی۔محمد صلی ال عالم آخر کون سے کالج میں پڑھے ہوئے تھے ؟ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی ؟ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ علم دیا کہ دنیا ہزاروں سال تک ان کی خوشہ چینی کرتی چلی جائے گی اور پھر بھی ان کا خزانہ ختم نہیں ہو گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محمد صل الی یم کو جو کتاب دی وہ ہے تو خدا کا کلام مگر اس میں کیا شبہ ہے