خطبات محمود (جلد 23) — Page 205
1942ء 205 خطبات محمود آئے ہو اور میرے پیچھے پیچھے چلتے آئے ہو اب کیا ہو گیا جو تم آگے نہیں چلتے۔ اونٹ نے کہا کہ میں تمہاری اطاعت نہیں کر رہا تھا بلکہ دراصل میں نے خود بھی ادھر ہی آنا تھا۔ جب تک تم میری مرضی کے مطابق چلتے آئے میں بھی تمہارے پیچھے پیچھے چلتا آیا مگر اب کہ تم میری مرضی کے خلاف چلنا چاہتے ہو میں نے انکار کر دیا۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو خوشی میں تو اطاعت کرتا ہے مگر جہاں غصہ اور رنج کی حالت پیدا ہوئی وہ جھٹ اطاعت سے باہر ہو جاتا ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی پہلی اطاعت بھی حقیقی اطاعت نہ تھی بلکہ اپنی مرضی کی اطاعت تھی۔ حقیقی اطاعت وہی ہے جب حکم مرضی کے خلاف ہو اور جو خوشی میں بھی اور رنج میں بھی ہو، جو تنگی میں بھی ہو اور فراغت میں بھی ، جو اس وقت بھی ہو جب انسان کو اس کا حق مل رہا ہو اور اس وقت بھی جب اس کا حق چھینا جا رہا ہو اور جب تک کوئی شخص اس طرح اطاعت نہیں کرتا اور اس طرح اپنے آپ کو اسلامی احکام کے ماتحت نہیں کر دیتا وہ فرمانبردار نہیں کہلا سکتا۔ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو لیکن کسی کو اگر نقصان پہنچا بھی ہو اور وہ اس کا ازالہ بھی ضرور کرانا چاہتا ہے تو چاہئے کہ قاضی کے پاس جائے بشر طیکہ حکومت وقت کا قانون اجازت دیتا ہو اور اگر وہ اجازت نہیں دیتا تو پھر سرکاری عدالت میں جائے لیکن جو شخص ان دونوں صورتوں کے خلاف چلتا ہے اور قانون کو خود ہاتھ میں لیتا ہے تو وہ اطاعت کی روح کے خلاف فعل کرتا ہے اور فتنہ پیدا کرتا ہے اور جب تک یہ حالت دور نہ ہو یہ دعویٰ کرنا کہ احمدیت کی حکومت ہمارے دلوں پر ہے اور کہ ہم احمدیت پر عمل کرتے ہیں ایک ناقص دعویٰ ہے۔“ )الفضل 17 جون 1942ء 1 : بخارى كتاب الكفالة باب جوار ابي بكر فى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ عَل اللَّهِ وَ عَقْدِهِ 2 : سیرت ابن هشام جلد نمبر 3 صفحہ 327 مطبوعہ مصر 1936ء 3 مسلم کتاب الطهارة باب الاستطابة 4: مسلم کتاب اللعان حدیث نمبر 3743 وو 5 : در ثمین اردو صفحہ 11 زیر عنوان ” سرائے خام“