خطبات محمود (جلد 23) — Page 198
1942ء 198 خطبات محمود آقا و ما تحت کے تعلقات ہے ، تعلقات ہر ایک امر کے متعلق وہ تفصیلی وہ تحصیلی ہدایات دیتا ہے۔ یہ اتنی ہدایات ہیں کہ بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ اتنا بڑا طومار ہے کہ اطاعت نا ممکن ہے لیکن حق یہ ہے کہ کوئی بھی بات ایسی نہیں جو ہمارے لئے بوجھل اور گراں ہو مثلاً یہی کھانے پینے کے متعلق ہدایات ہیں۔ ان میں سے کونسی ایسی ہے جو ہمارے لئے نا ممکن ہے۔ کیا ہاتھ دھونا نا ممکن ہے اس میں سراسر ہمارا ہی فائدہ ہے گندگی دور ہوتی ہے اور صفائی سے ہمیں ہی فائدہ پہنچتا ہے ۔ اس سے خد اور سول کو کیا فائدہ۔ پھر اگر ہم دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں تو اس میں کیا مشکل ہے اور اس سے خدا کو یا رسول کو کیا فائدہ ہے۔ ہمار اہی فائدہ ہے کہ ایک ہاتھ پاخانہ وغیرہ کی صفائی کے لئے رکھتے ہیں اور ایک کھانا کھانے کے لئے۔ کیا پاخانہ سے آلودہ ہونے والے ہاتھ سے روٹی کھائی جائے تو اچھا ہے۔ پھر اگر کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں تو اس میں کونسا زائد وقت لگتا ہے۔ پھر حلال کھانے میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ حرام سور ، خون، مردار اور مشرک کا کھانا ہی ہیں اور سور یا مر دار یا خون یا مشرک کا کھانا کھائے بغیر کیا ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ پھر طیب کھانے کا حکم ہے اس میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ طیب کے معنی ہیں جو ہر طرح فائدہ رساں ہو مثلاً اس کے معنی یہ ہیں کہ کچی روٹی نہ کھاؤ اور اگر ہم روٹی اچھی طرح پکا کر کھائیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے یا رسول کریم صلی العلی یم کا کیا فائدہ ہے یا اگر مٹی ملا ہوا آٹا ہم نے نہیں گوندھا تو اس سے اللہ تعالیٰ کو کتنے روپے مل گئے یا رسول کریم صلی علیم کو کیا مل گیا ؟ اس میں سراسر ہمارا ہی فائدہ ہے یا اگر ہم نے تین چار دن کا سڑا ہوا کھانا جو گو حلال تھا مگر طیب نہ تھا نہیں کھایا تو اس سے کسی کو کیا فائدہ پہنچا۔ ہمارا ہی فائدہ ہے کہ دستوں یا ہیضہ سے بچ گئے۔ اللہ تعالیٰ یارسول کریم صلی علیم کو تو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ یا اگر ہم نے سڑی گلی ہوئی ترکاری نہیں کھائی تو اس سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچا۔ ہماراہی فائدہ ہوا۔ غرضیکہ کوئی بھی حکم ایسا نہیں جس کا فائدہ ہمیں نہ پہنچتا ہو اور کوئی بھی حکم ایسا نہیں جس سے خدا یار سول کو کچھ ملتا ہو اور اگر ایسے احکام جن کا فائدہ سراسر ہمیں ہی پہنچتا ہے طومار بلکہ اس سے بھی بڑا ہو تو کیا۔ اس میں ہمارا ہی نفع ہے کسی اور کا تو نہیں۔ جتنا عمل کریں گے اتنا فائدہ ہم ہی اٹھائیں گے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ بعض بار یک احکام کی حکمت ہماری سمجھ میں نہ آئے