خطبات محمود (جلد 23) — Page 185
1942ء 185 خطبات محمود الله سلسلہ کے اسماعیلی سلسلہ ہونے کا۔ آ آنحضرت صلی العلم رت صلی علیم نے دنیا میں تمام بانیان مذاہب کی عزت قائم کی۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ اے عرب کے لوگو ! سن لو کہ وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نذیر ۔ 5 ہندوستان میں بھی اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ہیں۔ شام میں بھی اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ہیں، عراق میں بھی آئے ہیں اور ایران میں بھی آئے ہیں اور دنیا کی ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے ہادی بھیجے ہیں۔ مگر ہندو کوئی کتاب لکھتا ہے تو رسول کریم صلی علیم کو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا، فریبی اور دغا باز لکھتا ہے۔ عیسائی کوئی کتاب لکھتا ہے تو اس میں آپ کو نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ جھوٹا، فریبی اور دغا باز لکھتا۔ ھتا ہے۔ وہ محمد (صلی لی جس نے اپنے ماننے والوں کے دلوں سے دوسری علیہ قوموں کے سرداروں اور لیڈروں کی نفرت کو دور کر کے ان کی محبت کو قائم کیا۔ اسے اس کا بدلہ یوں دیا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کو موقع ملتا ہے آپ کو جھوٹا، فریبی اور دغا باز کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ حالانکہ لوگ دنیا میں بالعموم قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ حسن واحسان کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ اسی لئے ہے کہ تا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو۔ “ سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہوں گے۔ ”اور تا وہ نشان ظاہر ہو جو خدا تعالیٰ نے 66 صا الله سلم صا الله اسماعیلی سلسلہ کے لئے مقرر کیا ہے۔ محمد (صلی علیم سے زیادہ محسن اور کوئی نہیں مگر آپ سے زیادہ دشمنی بھی کسی کے ساتھ نہیں کی گئی اور یہی ہمارا حال ہے۔ ہم سب کی خیر خواہی کرتے ہیں مگر سب ہمیں مٹانا چاہتے ہیں۔ تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ سلسلہ سب سے زیادہ خطرات میں گھر اہوا ہے۔ یا الہی تو اپنا فضل کر اور یہی دعا کرتا کر تامیں سو گیا۔ صبح کے قریب کا وقت تھا کہ میرے سامنے ایک کاغذ لایا گیا جس پر کچھ لکھا تھا۔ میں نے اسے پڑھنا شروع کیا مگر کشف میں ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رات کا وقت ہے اور وہ ٹھیک طرح پڑھا نہیں جاتا۔ کئی بار میں نے کوشش کی مگر ٹھیک طور پر پڑھا نہیں گیا لیکن آخر پڑھا گیا۔ اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے اكُلُهَا دَائِم وَظِلُّھا اس کے بعد یہ الفاظ میرے دل پر بھی اور زبان پر بھی نازل ہونے شروع ہوئے اور بہت دیر تک آدھ گھنٹہ یا معلوم نہیں کتنے عرصہ تک میری زبان پر یہ الفاظ جاری رہے۔ زبان بھی یہی الفاظ کہتی تھی اور دل میں بھی بار بار دہرائے جاتے تھے۔ جب میں اٹھا تو میرے ذہن میں یہ آیت نہ تھی جو میں نے شروع خطبہ میں پڑھی ہے اور مجھے