خطبات محمود (جلد 23) — Page 166
* 1942 166 خطبات محمود کارروائی کی ہے اور مجھے گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس بارہ میں تحریر کروں کہ گورنمنٹ پنجاب کو اس تکلیف پر جو آپ کو یا آپ کے خاندان کے لوگوں کو پہنچی ہو گی شدید افسوس ہے۔آخر میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس امر کے اظہار کی ضرورت نہیں۔اس واقعہ سے کسی قسم کی ہتک یا تحقیر مد نظر نہیں تھی آپ کی ذات کی یا اس مذہبی جماعت کی جس کے آپ معزز سردار ہیں۔گو اس چٹھی میں ان بعض سوالات کا جو ہم نے اٹھائے ہوئے تھے جواب نہیں دیا گیا مگر بہر حال اس میں گورنمنٹ نے اس طریق کو اختیار نہیں کیا جو پہلے کیا تھا کہ اگر ہمیں معلوم ہو تا کہ اس میں آپ کا تعلق ہے تو ایسا واقعہ نہ ہو تا بلکہ محض واقعہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قابل افسوس ہے اور ان افسروں کو سزا دی گئی ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔میں نے جنگ کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کے اس اظہار افسوس کو قبول کر لیا ہے اور اسے لکھ دیا ہے کہ ہم اس واقعہ کو اب ختم شدہ سمجھتے ہیں۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں گو گورنمنٹ کے لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد بعض اعلیٰ حکام کی سلسلہ احمدیہ سے مخالفت ہے کیونکہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن امور کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے وہ ڈیڑھ سال پہلے کے تھے اور اس کی ڈپٹی کمشنر اور سپر نٹنڈنٹ پولیس کو بھی اطلاعیں دی جاچکی تھیں۔ان مخالف افسروں میں سے مثال کے طور پر میں سی۔آئی۔ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کا ذکر کرتا ہوں۔سال سوا سال ہوگا انہوں نے ہمارے مبلغ صوفی عبد القدیر صاحب کو بلایا اور ان سے کہا کہ جاپان کے متعلق مجھے وہ معلومات دو جو تم نے وہاں رہ کر حاصل کی ہیں اور جو کارروائیاں وہاں ہو رہی ہیں وہ مجھے بتاؤ۔صوفی عبد القدیر صاحب نے درست طور پر جواب دیا کہ میں جماعت کا ایک فرد ہوں اور اس کی طرف سے میں جاپان میں تبلیغی خدمت پر مقرر رہا ہوں۔میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا اگر جماعت کی معرفت مجھ سے جواب مانگا جائے تو میں جواب دے سکتا ہوں۔ایک مبلغ کی حیثیت سے ان کا یہ جواب بالکل صحیح اور درست تھا۔دنیا کی تمام مہذب گور کمنٹیں پادریوں کو اس قسم کے معاملات میں لپیٹا نہیں