خطبات محمود (جلد 23) — Page 16
1942ء 16 خطبات محمود وو ہمارے پاس تو يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم قربانی کے پیچھے جو نیت ہوتی ہے وہ پہنچا کرتی ہے۔ اگر ایک چھوٹی سی دنبی ذبح کرنے والے کی نیت بہت اعلیٰ تھی اور دو سو بڑے بڑے دنبے ذبح کرنے والی کی نیت ایسی اعلیٰ نہیں تھی اور اگر اگلے جہان میں تمام قربانیوں نے متمثل ہونا ہے جیسا کہ قرآن کریم سے اس کا پتہ چلتا ہے تو قیامت کے دن جس نے دو سو دُنبے ذبح کئے ہوں گے اگر اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاص نہ ہو گا تو اس کے ساتھ دو سو دُنبے نہیں ہوں گے بلکہ ایک مریل سی دُنبی ہو گی اور جس نے ایک چھوٹی سی دنبی ذبح کی تھی۔ اگر اس نے اعلیٰ اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ قربانی کی تھی تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی دُنبی نہیں ہو گی بلکہ ہز ا رہا موٹے تازے دُنبے ہوں گے کیونکہ اس جہان میں چیزیں بدل جاتی ہیں اور وہ سب کی سب نیت کے تابع ہو جاتی ہیں۔ تو یاد رکھو اعمال نیتوں کے تابع ہیں۔ نیتیں اعمال کے تابع نہیں ہیں۔ پس اپنی نیت کے مطابق ہر انسان خدا تعالیٰ کے راستہ میں جو قربانی کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسے اس کی نیت ہوتی ہے اور جبکہ نیت ہر انسان کے اختیار میں ہے مگر عمل اس کے اختیار میں نہیں۔ تو کتنے افسوس کی بات ہو گی اگر کوئی شخص اپنی نیت کی درستی کی طرف بھی توجہ نہ کرے۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کے تمام افراد اپنی نیتوں کی درستی کی طرف توجہ کریں تو یہ نہیں کہ قربانی کم ہو جائے گی بلکہ قربانی کا درجہ بہت زیادہ بلند ہو جائے گا کیونکہ نیتوں کی درستی کے ساتھ انسان کے کاموں میں برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی قربانیاں عظیم الشان نتائج پیدا کر دیا کرتی ہیں۔ ہم نے بھی تحریک جدید سے ایک عظیم الشان کام سر انجام دینے کی نیت کی ہے اور ہمارا ارادہ اس روپیہ سے ایک بہت بڑے اور اہم کام کی داغ بیل ڈالنے کا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم سے کتنا کام ہو گا اور ہم اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوں گے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہماری جماعت کے تمام افراد اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور نیتوں کو درست کرنے کے بعد تحریک جدید کی قربانیوں میں حصہ لیں۔ تو افراد کی نیتوں کی درستی ہماری جماعتی نیت میں بھی عظیم الشان برکت پیدا کر سکتی اور ہماری حقیر کوششوں کے بہت بڑے نتائج پیدا