خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 151

1942ء 151 خطبات محمود سه میں سمجھتا ہوں، آپ لوگوں کو ضرور تکلیف ہوئی ہو گی و گی مگر وہ لوگ آنحضرت صلی العلیم کے صحابی تھے اور آپ ان کی عزت کیا کرتے تھے اس لئے میں مجبور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس بات کو تو سمجھتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کا وہی مقام تھا جو آپ نے ان کو دیا اور نے ان کو دیا اور ہمارا وہی تھا جو ہمیں حاصل ہوا مگر ہم تو یہ پوچھتے ہیں کہ اب ہمارے گناہوں کا بھی کوئی کفارہ ہو سکتا ہے۔ حضرت عمر یہ سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ اسلامی ممالک کی سرحد پر جنگ ہو رہی ہے اگر تم لوگ جاؤ اور اپنی جانیں اسلام کے لئے دے دو تو خدا تعالیٰ کے دربار میں اسی طرح تمہارے گناہوں کا ازالہ ہو سکے گا۔ معلوم ہوتا ہے وہ سب کے سب سچے مسلمان تھے ایمان کی قدر و قیمت کو سمجھتے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ ان کا خدا ان سے راضی ہو۔ چنانچہ وہ فوراً اپنی اپنی اونٹنیوں پر سوار ہوئے اور جنگ کے میدان میں جا پہنچے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہ آیا اور سب کے سب شہید ہو گئے۔ 4 اور گو ان کے باپ دادا نے تو ان کے لئے ذلت مول لے لی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل کر لی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو آنحضرت صلی الم کے ذریعہ عزت ملی تھی۔ پس یہ بادشاہت اور قسم کی ہے اور روحانی ہے مگر اس میں بھی جیسا کہ اوپر کے واقعہ سے ظاہر ہے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے ماتحت ضرور تغیرات ہوئے اور پہلی عزتیں ضرور بر باد ہوئیں۔ پس جب کسی نظام میں تبدیلی ہو خواہ روحانی ہو یا جسمانی، تغیرات ضرور ہوتے ہیں، خواہ اچھے ہوں یا بُرے۔ نئے قوانین بنتے اور نئے اصول وضع ہوتے ہیں اس لئے آجکل جو تغیرات دنیا میں ہو رہے ہیں ان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ معمولی ہیں نادانی ہے۔ سینکڑوں سالوں سے دنیا پر کبھی اتنی تباہی نہیں آئی جتنی اب آرہی ہے۔ پس میں ان دوستوں کو جو متبع رسول کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ تمہارا آقا بادل کو دیکھ کر خشیت اللہ سے بھر جاتا تھا تو تمہارے قلوب اتنے بڑے طوفانوں کو دیکھ کر کیوں خشیت اللہ سے بھر نہ جانے چاہئیں اور کیوں تمہاری قربانیاں پہلے سے بہت بڑھ نہ جانی چاہئیں۔ جن لوگوں سے اب تک کو تاہی ہوئی ہے میں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ