خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 149

$1942 149 خطبات محمود رسول کریم صلی الیوم کی اپنے اوپر حکومت جتانے کے لئے آپ کے متعلق بادشاہ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں ورنہ دنیا کے نزدیک اس کا جو مفہوم ہے اس کے لحاظ سے آپ کے متعلق اس کا استعمال ہر گز جائز نہیں۔پس جو لوگ آپ کی مثال پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ آپ جب مکہ میں داخل ہوئے تو وہاں امن و امان رہا نادان ہیں۔کیونکہ یہ فعل ایک اولو العزم رسول کا تھا بلکہ نبیوں کے سردار کا، کسی بادشاہ کا فعل نہ تھاور نہ کوئی امن پسند اور عادل بادشاہ بھی جب کسی ملک میں داخل ہو تو وہ نیا نظام قائم کرتا ہے۔یوں تو نظام کے لحاظ سے انبیاء بھی تغیر کرتے ہیں مگر ان کا تغیر خیر کا ہوتا ہے۔مکہ کی حکومت آنحضرت صلی علی کرم کے داخل ہونے کے بعد ویسی نہ تھی جیسے آپ سے پہلے تھی بلکہ اس سے بہت زیادہ بہتر اور اچھی تھی۔مگر آنحضرت صلی اللہ ہم سے قبل جن لوگوں کا مکہ میں اثر ورسوخ تھا وہ آپ کے بعد قائم نہ رہا گو آپ نے ان لوگوں کو اس سے محروم نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ لا تَشْرِيْبَ عَلَيكُمُ الْيَوْمَ 3 لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا اثر ورسوخ چھین لیا۔آپ نے ابو جہل، عتبہ اور شیبہ کی جائدادیں نہیں چھینیں اور ان پر کوئی تعدی نہ کی مگر وہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے مجرم تھے اس نے ان کا رسوخ چھین لیا۔رسول کریم صلی الیکم نے اپنے رحم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ ہمارے مجرم ہیں ہم ان کی شوکت چھین لیں گے۔باوجودیکہ رسول کریم صلی علیم نے ان پر کوئی عتاب نازل نہ کیا بلکہ کرم اور بخشش کا سلوک کیا اور ان لوگوں پر بہت احسان کئے چنانچہ بعد کی جنگوں میں آپ نے ان لوگوں اور ان کی اولادوں کو سینکڑوں اونٹ دیئے مگر پھر بھی ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جسے وہی عزت حاصل رہی ہو جو پہلے تھی۔پہلے تو وہ لوگ آنحضرت صلی الم کو بھی اپنا تابع اور ماتحت سمجھتے اور دنیوی لحاظ سے آپ کو اپنے سے ادنی خیال کرتے اور سمجھتے تھے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ اس لئے کیا ہے کہ ہماری سرداری چھین لیں اور ہم پر حاکم ہو جائیں مگر آخر ایک دن ایسا آیا کہ آپ کے ایک ادنیٰ غلام اور خادم حضرت عمرؓ مکہ میں حج کرنے کے لئے داخل ہوئے تو وہی لوگ جو اپنے آپ کو مکہ کے حاکم سمجھتے تھے اور آنحضرت صلی علیم کو حقیر خیال کرتے تھے ان کے ایک ادنی غلام عمر کہ جو اُس وقت مسلمانوں کا بادشاہ تھا مگر انہی دینی معنوں