خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 132

* 1942 132 خطبات محمود مکان پر خرچ بھی آتا رہتا ہے اور جو مکان بنایا جائے وہ بیس تیس یا چالیس سال تک یوں بھی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور کرایہ پر دینے والے کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کرایہ میں سے اتنی بچت بھی کرے کہ جس سے اسے دوبارہ بنا سکے۔ورنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کرایہ میں ہی مکان ختم ہو گیا۔پس اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے شہروں میں جس نسبت سے کرائے ہوتے ہیں۔قادیان میں اس سے نصف سے بھی کم ہیں۔اس لئے اگر مناسب طور پر کرایوں میں اضافہ ہو جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔جن لوگوں نے یہاں مکانوں پر روپیہ لگایا ہوا ہے۔وہ اگر دس سال یا پندرہ سال نقصان اٹھاتے رہے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اب بھی نقصان اٹھائیں اور ہمیشہ وہی قربانیاں کرتے جائیں۔باہر والوں کو بھی کچھ قربانی کرنی چاہئے۔آخر جنگ کی وجہ سے وہ فائدے بھی اٹھا رہے ہیں۔جن لوگوں کی آمدنی دس دس بارہ بارہ روپیہ ماہوار تھی۔وہ اب ستر ، استی بلکہ سو سو روپیہ ماہوار کما رہے ہیں اور جب وہ خود فائدہ اٹھارہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان مکان والوں کو فائدہ پہنچائیں۔جنہوں نے دس ہیں سال تک اپنا روپیہ بند کئے رکھا اور اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔میں نے سنا ہے کہ نظارت امور عامہ نے حکم دیا ہے کہ کرائے نہ بڑھائے جائیں مگر یہ ٹھیک نہیں۔دیکھنا یہ چاہئے کہ مکان پر کتنا روپیہ خرچ آیا ہے اور اس روپیہ پر کتنا نفع تجارتی طور پر ملنا چاہئے۔گو قادیان اتنا بڑا شہر نہیں کہ لاہور، امر تسر کی طرح یہاں کے کرائے ہوں۔لیکن ان شہروں میں تو کرائے بہت زیادہ ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ لاہور میں بعض اوقات کسی نے دو ہزار میں کوئی دکان لی ہے تو اس کا کرایہ بھی تیس چالیس مل جاتا ہے۔پس جہاں میں ایسے بددیانت لوگوں کو ہوشیار کر تاہوں جو چند روپوں کے لالچ میں آکر دھوکا کرتے اور احمدیت کو داغ لگاتے ہیں وہاں باہر سے آنے والوں کو بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی اس بات پر اصرار نہ کریں کہ پہلے جو کم کرائے تھے وہی رہیں اور مکان والوں سے ہی قربانی کا مطالبہ کرتے جائیں۔وہ یہاں اپنے فائدہ کے لئے آتے ہیں اور اس رنگ میں ان کا آنا دین کے لئے کوئی ایسی قربانی نہیں کہ وہ مکان والوں سے بھی قربانی کا مطالبہ کریں۔ایسا مطالبہ