خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 124

خطبات محمود 124 * 1942 غلط نتائج پیدا کرنے والی ہو۔اس لئے تو آپ میری مدد کر اور میرے لئے وہی اسباب مہیا فرماجو میرے لئے مفید اور بابرکت ہوں اور جن کے ساتھ تیری مرضی بھی شامل ہو۔لیکن اے اللہ ! کبھی تیری رفاقت اس رنگ میں ہوتی ہے کہ تو کہتا ہے یہ میرا حکم ہے اس پر عمل کر جیسے ماں باپ انسان کے رفیق ہوتے ہیں مگر ان کی رفاقت حکومت کے رنگ میں ہوتی ہے۔پس جب اس مقام پر میں کھڑا ہوں اور تو مجھے کوئی حکم دے تو چونکہ میں کمزور ہوں اس لئے مجھ پر رحم کر کے ایسا حکم نہ دیجئو جس پر میں اپنی کمزوری کی وجہ سے عمل ہی نہ کر سکوں۔غرض جب تیری رفاقت دوستانہ رنگ میں آئے تو اس وقت تو میر اساتھی بن کر میری مدد کیجئو اور اگر تیری رفاقت حاکم بالا کی صورت میں ہو تو اس وقت رحم کا پہلو مد نظر رکھیو اور کوئی ایسا حکم نہ دیجو جسے میں پورا نہ کر سکوں۔پس یہ دونوں دعائیں ہم معنی ہیں اور چونکہ دعا سے پہلے مناسب حال صفات الہیہ کا ذکر قبولیت دعا کا موجب ہوتا ہے اس لئے میرے نزدیک يَا حَفِيْظُ يَا عَزِیزُ یا رفیق کی دعا پہلے پڑھنی چاہئے اور پھر یہ دعا مانگنی چاہئے رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِی وَ انْصُرْنِي وَ ارْحَمْنِی۔اس دوسری دعا میں حفیظ پہلے ہے اور عزیز بعد میں۔مگر رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ والی دعا میں عزیز کے ہم معنے الفاظ پہلے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یا حفیظ والی دعا ایک ایسی دعا کا حصہ ہے جو خطرناک بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سکھائی گئی اور اس وقت حفاظت کا پہلو مقدم تھا۔پس اسے پہلے رکھا گیا لیکن ان دعاؤں کی ایک اور ترتیب بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ ربّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ کو الگ جملہ سمجھا جائے اور رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَ انْصُرْنِي وَ ارْحَمْنِي كويَا حَفِيظٌ يَا عَزِيْزُ يَا رَفِيْقُ کے بالمقابل سمجھا جائے۔اس صورت میں فَاحْفَظْنِی يَا حَفِيظٌ کے مقابل پر ہو گا اور انْصُرْنِي يَا عَزِيْزُ کے مقابل پر اور ارْحَمْنِی یا رفیق کے مقابل پر اور یہ ترتیب بھی طبعی ہے۔اس کے علاوہ ایک دفعہ مجھے بھی رویا میں ایک دعا بتلائی گئی تھی۔یہ 1914ء کی بات ہے جب چوہدری فتح محمد صاحب ولایت میں تھے اور میں اس سے یہ نتیجہ نکالا کرتا تھا کہ اس رؤیا میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ اسی وقت آئے گا جب چودہری فتح محمد صاحب ہندوستان میں ہوں گے۔میں نے دیکھا کہ دنیا میں ایک بہت بڑا طوفان آیا ہے جس سے چاروں طرف تباہی اور