خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 91

خطبات محمود 91 * 1942 چھوٹا سا گاؤں ہے۔اس میں آپ کو بھیج دیا جاتا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس کے سوال کے معا بعد یہ بات میرے دل میں ڈال دی اور میں نے پھر اسے مسکرا کر کہا۔پادری صاحب ناصرہ یا ناصرہ سے بڑا کوئی شہر ہو وہاں نبی آسکتا ہے۔حضرت مسیح ناصری جس گاؤں میں ظاہر ہوئے تھے اس کا نام ناصرہ تھا اور ناصرہ کی آبادی بمشکل دس بارہ گھروں پر مشتمل تھی۔میرے اس جواب پر پھر اس کا رنگ فق ہو گیا اور وہ حیران ہوا کہ میں نے اس کی اسی بات کا جواب دے دیا جو در حقیقت اس کے سوال کے پس پردہ تھی۔اس کے بعد اس نے تیسر اسوال کیا جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہا مگر پہلے بعض دفعہ بیان کر چکا ہوں۔بہر حال اس نے تین سوال کئے اور تینوں سوالات کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے القاء کر کے مجھے بتا دیا کہ اس کا ان سوالات سے اصل منشاء کیا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ چکر دے کر پہلے اور سوال کرتا تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا اصل منشاء مجھ پر ظاہر کر دیا اور وہ بالکل لا جواب ہو گیا۔تو اللہ تعالی قلوب پر عجیب رنگ میں تصرف کرتا اور اس تصرف کے ماتحت اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے اور یہ تصرف صرف خدا کے اختیار میں ہوتا ہے۔بندوں کے اختیار میں نہیں ہو تا۔ایک دفعہ ایک کج بحث ملا مسجد میں مجھے ملا اور کہنے لگا۔مجھے مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت دیجئے۔میں نے کہا قرآن موجود ہے۔سارا قرآن حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔کہنے لگا کونسی آیت ؟ میں نے کہا قرآن کی ہر آیت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔اب یہ تو صحیح ہے کہ قرآن کی ہر آیت ہی کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر چسپاں ہو سکتی ہے مگر بعض آیتیں ایسی ہیں کہ ان کا سمجھانا اور یہ بتانا کہ کس رنگ میں اس سے نبی کی صداقت کا ثبوت نکلتا ہے بہت مشکل ہوتا ہے۔فرض کرو کسی آیت میں لڑائی کا واقعہ بیان ہو تو اب گو اس سے بھی نبی کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے مگر وہ ایسا رنگ ہوتا ہے جو عام طبائع کی سمجھ سے بالا ہوتا ہے مگر مجھے اس وقت یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ تصرف فرما کر اس کی زبان سے وہی آیت نکلوائے گا جس سے نہایت وضاحت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جائے گی۔خیر وہ اصرار کرتا رہا کہ آپ کوئی آیت بتائیں۔مگر میں اسے یہ کہوں کہ آپ کوئی آیت پڑھ دیں اسی سے میں حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کر دوں گا۔آخر اس نے