خطبات محمود (جلد 23) — Page 60
خطبات محمود 60 * 1942 اپنے آپ کو صحیح طور پر جماعت کا فرد ثابت نہیں کر سکے تو اب اس غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرو اور مصیبت کے وقت نفسی نفسی والی صورت اختیار نہ کرو کہ اس طرح انسان جماعتی رنگ میں دوسرے کی امداد کا مستحق نہیں رہتا۔قرآن کریم نے یہ منافقوں کی علامت بیان کی ہے کہ جب مسلمان جنگ کے لئے جاتے تھے تو کہتے تھے ہم اپنے آپ کو مصیبت میں کیوں ڈالیں مگر جب وہ فتح کے بعد غنیمت کے اموال لے کر واپس آتے تھے تو منافق ان کے پاس دوڑے ہوئے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم بھی تمہارے بھائی ہیں ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہئے۔پس یہ منافق کی علامت ہے کہ وہ سکھ اور آرام کے وقت تو جماعت کے ساتھ شامل رہتا ہے مگر تکلیف کے دنوں میں اپنے آپ کو جماعت کا فرد نہیں سمجھتا۔تمہیں چاہئے کہ تم تکلیف کے دنوں میں جماعت کے فرد بنو تا راحت کے دنوں میں خدا تمہیں ان نعمتوں سے حصہ دے جو خدا نے جماعت کے لئے مقدر کی ہوئی ہیں۔مجھے یہ بات بھی بڑے افسوس سے معلوم ہوئی ہے کہ بعض احمدی دکانداروں نے ان دنوں غلّے چھپا لئے تھے۔میں اس بات کی تحقیقات کروں گا اور اگر کسی دکاندار کے متعلق یہ بات ثابت ہوئی کہ اس نے غلہ چھپارکھا تھا جو انسانیت اور قانون دونوں لحاظ سے نہایت ہی شر مناک امر ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کا آدمی ہماری جماعت میں نہیں رہ سکتا۔مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی کہ نام کے لحاظ سے وہ احمدی کہلاتا ہے کیونکہ ہمیں اس قسم کے نام کے احمدیوں کی ضرورت نہیں۔پس ہر وہ دکاندار جس کے متعلق یہ بات ثابت ہو گئی اس کی سزا یہی ہو گی کہ اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اگر تم لوگوں کی مصیبت کے وقت بھی اپنا فائدہ سوچتے ہو تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ لوگوں کو ہدایت دیں کہ وہ دوسروں سے سودانہ خریدیں۔صرف تم سے سودا خریدیں۔میری خلافت کے ایام میں سے 22 سال سے یہاں کے دکاندار فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر احمدی کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خواہ اسے مہنگا سودا ملے وہ احمدی دکاندار سے ہی لے دوسروں سے نہ لے۔پس کیا یہ قابل شرم بات نہیں کہ جب لوگوں کی تکلیف کا وقت آیا تو انہوں نے غلے کے ذخیروں کو چھپالیا۔22 سال تک جماعت کے