خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 583

* 1942 583 خطبات محمود صاحب! میں لاٹ صاحب کے پاس ملنے کے لئے جاتا ہوں تو وہ مجھے کرسی دیتے ہیں آپ مجھے کیوں کرسی نہیں دیتے۔اس پر ڈپٹی کمشنر کو غصہ آگیا اور کہنے لگا اگر ایک چوہڑا بھی ہمیں اپنے مکان پر ملنے کے لئے آئے تو ہم اسے کرسی دے دیتے ہیں مگر یہ عدالت کا کمرہ ہے ، ملاقات کا کمرہ نہیں۔اس پر پھر انہوں نے اصرار کیا۔آخر ڈپٹی کمشنر نے انہیں کہا بک بک مت کر، پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔معلوم ہوتا ہے وہ جوش کی حالت میں کچھ آگے بڑھ آئے ہوں گے۔جس پر انہیں کہنا پڑا کہ پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔وہاں سے اپنی ذلت کروا کے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی ہوئی تھی۔اس کرسی پر وہ بیٹھ گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ جب لوگ مجھے یہاں کرسی پر بیٹھا ہوا دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ اندر بھی اسے کر سی ملی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کیا ہوا ہے کہ نوکر اکثر آقا کے پیچھے چلتے ہیں، عدالت کا چپڑاسی برآمدہ میں موجود تھا وہ بٹالہ یا گورداسپور کا ہو گا اور اس ضلع میں رہنے کی وجہ سے وہ جانتا ہو گا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی لوگوں کے دلوں میں کس قدر عزت ہے مگر کسی نے کہا ہے ہم راجہ کے نوکر ہیں بینگن کے نہیں۔چپڑاسی بھی اندر تمام باتیں سن چکا تھا اور دیکھ چکا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ان پر سخت ناراض ہوئے ہیں۔چنانچہ جب وہ بر آمدہ میں کرسی پر بیٹھ گئے تو چپڑاسی دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب یہاں نہ بیٹھئے۔یہاں آپ کو بیٹھنے کی اجازت نہیں اور یہ کہتے ہی اس نے کرسی ان کے نیچے سے کھینچ لی۔وہاں سے اٹھے تو باہر ہجوم میں آگئے اور خیال کیا کہ یہاں کوئی اچھی سی جگہ مل جائے تو یہیں بیٹھ جاؤں۔کچھ یہ بھی خیال تھا کہ ان لوگوں میں سے تو اکثر مرزا صاحب کے مخالف ہیں۔اس لئے ضرور مجھے اچھی جگہ مل جائے گی اتفاقا وہاں کسی شخص نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی۔مولوی صاحب فوراً اس چادر پر بیٹھ گئے مگر خدا تعالیٰ نے یہاں بھی ان کی ذلت کا سامان کر دیا۔چادر کے مالک نے جب انہیں اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا میری چادر چھوڑ دو۔تم نے تو میری چادر پلید کر دی تم ایک عیسائی کی تائید میں ایک مسلمان کے خلاف گواہی دینے کے لئے آئے ہو۔آخر مولوی صاحب کو وہاں سے بھی ذلت کے ساتھ اٹھنا پڑا۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے بڑے بڑے