خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 552

* 1942 552 خطبات محمود بھی ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کا سر کچلتے رہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک تیسرے گروہ کا پیدا ہو جانا بھی کوئی بعید از قیاس نہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ میں غلو سے کام لے اگر ہم ان لوگوں کو نہ دبائیں تو یہ دین کو کہیں کا کہیں لے جائیں گے۔ہم بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا رسول کہتے ہیں مگر نفسانیت کی وجہ سے نہیں۔اس وجہ سے نہیں کہ ہم احمد یہ جماعت میں شامل ہیں۔اگر ہمارے سلسلہ کا بانی رسول ہو گا تو ہماری شان بہت بڑھ جائے گی۔ہم اگر آپ کو رسول کہتے ہیں تو صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول کہا اور خدا تعالیٰ کے رسول نے آپ کو رسول کہا۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم میں سے جو راستباز ہوتے۔وہ کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول نہ کہتے لیکن جب ہمیں یقین پیدا ہو گیا کہ آپ کو خدا نے رسول کہا اور ہمیں یقین پید اہو گیا کہ آپ کو خدا کے رسول نے رسول کہا ہے۔تو پھر ہم نے فیصلہ کر لیا کہ اب اس کے بعد دشمن کے حملوں کی پر واہ نہیں کی جاسکتی۔وہ بے شک مخالفت کرے۔ہم آپ کو ضرور رسول کہیں گے چنانچہ دیکھ لو کتنے سالوں سے دشمن قادیان پر حملہ کر رہا ہے مگر ہم اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں میں کسی کو تباہ کرنے کی طاقت نہیں۔مجھے یاد ہے کشمیر موومنٹ کے ایام میں جب میں کشمیر کمیٹی کا پریذیڈنٹ تھا اور احرار نے شورش بر پا کر دی تو ایک دن سر سکندر حیات خان صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں دونوں کا تبادلہ خیالات ہو جائے وہ ان دنوں ریونیو ممبر تھے اور مجھے یہ بھی علم ہو گیا تھا کہ انہیں گورنمنٹ کی طرف سے امید دلائی گئی ہے کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو گورنمنٹ اس کو قبول کر لے گی۔میں اُن دنوں لاہور میں ہی تھا۔میں نے کہا کہ مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔یہ میٹنگ سر سکندر حیات خان صاحب کی کوٹھی پر ہوئی اور میں اس میں شریک ہوا۔چوہدری افضل حق صاحب بھی آگئے اور اسی طرح اور بہت سے مسلمان شامل تھے۔باتیں شروع کرتے ہی چودھری افضل حق صاحب نے میرے متعلق کہا کہ مجھے سخت شکوہ ہے۔انہوں نے الیکشن میں میری