خطبات محمود (جلد 23) — Page 52
* 1942 52 خطبات محمود جو خدا تعالیٰ کے غضب کے وقت میں بھی ڈرنا نہیں جانتے۔ایسی خبروں پر جن میں گورنمنٹ کی کسی شکست کا ذکر ہو بے پروائی ظاہر کرے یا دل میں خوشی محسوس کرے تو اس کے سوائے اس کے اور کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ اپنے بھائیوں کی تباہی اور بربادی پر خوشی ظاہر کی جاتی ہے۔ابھی میرے سفر کے دوران میں ملایا اور رنگون اور سماٹرا اور جاوا کی لڑائیوں نے نہایت تکلیف دہ شکل اختیار کر لی ہے۔میں ایسے لوگوں سے خواہ وہ کتنے ہی تھوڑے ہوں پوچھتا ہوں کہ کیا اب وہ ان سینکڑوں احمدیوں اور درجن کے قریب مبلغوں کی قید پر خوش ہیں جو ان علاقوں میں رہتے تھے۔ملایا کی فوجوں میں بڑے اور چھوٹے افسر اور سپاہی وغیرہ ملا کر سینکڑوں احمدی تھے اور اب وہ سارے ہی قید ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ انہیں تکلیفیں دی جارہی ہیں یا نہیں دی جار ہیں اور اگر نہیں دی جار ہیں تو بھی قید بہر حال قید ہے۔ہمارا ایک مبلغ سنگا پور میں تھا اور ہمارے آٹھ نو مبلغ سماٹرا اور جاوا میں تھے ان سب کے متعلق اب جب تک جنگ کا خاتمہ نہ ہو جائے ہمیں کچھ علم نہیں ہو سکتا کہ ان کا کیا حال ہے۔حالا نکہ وہ ان ممالک میں ہمارا فرض ادا کر رہے تھے۔جب کوئی شخص اپنے وطن اور اپنے بیوی حالانکہ بچوں کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے جاتا ہے تو در حقیقت وہ ہمارا فرض ادا کرنے کے لئے جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ویسی ہی میرے اور تمہارے ذمہ ہے جیسے اس کے ذمے۔مگر اس نے ہمارے بوجھ کو آپ اٹھا لیا اور ہمارے کام کو پورا کرنے کے لئے اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر غیر ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے چلا گیا یا اگر اس ملک کا ہی باشندہ تھا تب بھی اس نے مبلغ ہو کر ہزاروں لاکھوں کی دشمنیاں مول لے لیں۔اگر وہ جماعت کا ایک عام فرد ہوتا تو اس کی زیادہ دشمنی نہ ہوتی مگر چونکہ وہ مبلغ بن گیا اس لئے مبلغ ہونے کی وجہ سے سب لوگوں نے اس کو اپنی مخالفت کا مرکز بنالیا۔پس جو مسلغ وہاں کے رہنے والے ہیں وہ بھی ہمارا ہی فرض ادا کرتے ہیں جیسے سماٹرا اور جاوا میں ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو وہاں کے ہی رہنے والے ہیں۔وہ پہلے یہاں پڑھنے کے لئے آئے اور جب تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کو واپس چلے گئے تو بعض کو ہم نے مبلغ مقرر کر دیا اور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے مبلغ مقرر کر دیا۔ان لوگوں نے جماعت کی خاطر اور ہم