خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 435

* 1942 435 خطبات محمود کسی وقت ایک لاکھ ہاتھ اس کی طرف بڑھتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے بھی ایک لاکھ ہاتھ بندوں کے مصافحہ کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اگر کسی وقت ایک کروڑ ہاتھ اس کی طرف بڑھتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے بھی ایک کروڑ ہاتھ بندوں کے مصافحہ کے لئے بڑھتے ہیں۔ہر شخص سمجھتا ہے کہ میرے خدا نے مجھ سے مصافحہ کیا حالانکہ اس نے سب سے مصافحہ کیا ہوتا ہے۔ہم ایک ہاتھ والے اپنے اوپر قیاس کر کے سمجھتے ہیں کہ جب ہم ایک وقت میں ایک شخص سے ہی مصافحہ کر سکتے ہیں تو خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہو گا مگر یہ درست نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف جتنے ہاتھ بڑھیں اتنے ہی ہاتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی طرف بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔یہی مضمون تھا جسے پرانے ہندور شیوں نے اس رنگ میں بیان کیا کہ وہ اپنے دیوتاؤں کی تصویروں میں کئی ہاتھ اور کئی سر بنا دیتے تھے۔لوگوں نے ان کا اصل مفہوم نہ سمجھا اور یہ خیال کر لیا کہ دیووں کی طرح خدا تعالیٰ کے بھی سچ سچ کئی ہاتھ اور کئی سر ہوتے ہیں حالانکہ ان رشیوں اور بزرگوں نے صرف یہ بتایا تھا کہ تم یہ مت خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بزرگ سے محبت کرتا ہے تو اس کی محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے کہ دوسروں کی محبت کا اسے کوئی خیال بھی نہیں رہتا۔اسی طرح یہ مت خیال کرو کہ جب وہ کسی کو بڑا بناتا ہے تو دوسرے محبت کرنے والوں کو نظر انداز کر دیتا ہے بلکہ جتنے ہاتھ اس کی طرف اشتیاق اور محبت سے بڑھتے ہیں اتنے ہی خدا تعالیٰ کے ہاتھ نکل آتے ہیں اور جتنے لوگ اس کی طرف منہ کرتے ہیں اتنے ہی اس کے منہ بن جاتے ہیں۔ہر شخص سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اور اس کامنہ میرے منہ کی طرف ہے حالانکہ اس کا ہاتھ ہر اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اس کی طرف محبت کے ساتھ بڑھا ہوا ہوتا ہے اور اس کا منہ ہر اس شخص کے مُنہ کی طرف ہوتا ہے جو محبت اور پیار سے اس کی طرف دیکھ رہا ہو تا ہے۔یہی وہ بات ہے جو حضرت مجد د صاحب نے بیان کی کہ۔پنجه در پنجه خدا دارم من چہ پر وائے مصطفی دارم ارے نالا لقو! تم سمجھتے ہو محمدصلی للی کم کا ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلے تب وہ میرے ہاتھ میں آئے گا؟ نہیں! بلکہ اس کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں بھی ہے اور میں اس انتظار میں نہیں کہ کب محمد مصطفی صلیالی میں فارغ ہوں کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ میں اپنے ہاتھ میں پکڑوں۔