خطبات محمود (جلد 23) — Page 416
* 1942 416 خطبات محمود کہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے یہ کوئی بعید نہیں کہ آج کی رات ہی لَيْلَةُ الْقَدْر ہو۔بہر حال خدا تعالیٰ نے اسے مخفی رکھا ہے تا اس کے بندے ڈھونڈنے میں لگے رہیں اور صحیح بات تو یہ ہے کہ جو چیز ڈھونڈھنے اور کوشش کرنے سے ملتی ہے۔وہ زیادہ پیاری معلوم ہوتی ہے اور جس کے لئے انسان زیادہ کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے فضلوں کو بھی اس کے لئے زیادہ کر دیتا ہے۔ایک شخص اپنے ہمسایہ سے ملنے کے لئے آتا ہے، دوسرا ایک میل سے آتا ہے، تیسر اپندرہ ہیں میں سے آتا اور چوتھا دو چار سو میل سے آتا ہے۔اب ہیں تو وہ سارے ہی مہمان مگر جو دو چار سو میل سے چل کر آیا ہے۔انسان اس کی خاطر زیادہ ملحوظ رکھتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے کو نساروز روز آتا ہے۔اسی طرح جو شخص لَيْلَةُ القدر کی تلاش رمضان کی پہلی رات سے ہی شروع کرتا ہے۔وہ گویا آخری عشرہ تک پہنچتے پہنچتے ہیں منزلیں طے کر کے آتا ہے، اس لئے اس کی قربانی کی قدر زیادہ ہو گی لیکن اگر کوئی ایک رات معین ہوتی مثلا 27 ویں کو ہی ہوتی تو لوگ سب کے سب اس ایک رات کو اٹھ کر بیٹھے رہتے بلکہ شاید سوتے ہی نہ۔دیکھو لَيْلَةُ الْقَدْر کی بزرگی کو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا۔رسول کریم صلیالی نیلم نے اس کی عظمت بیان فرمائی۔ائمہ سلف اس کی قدر و قیمت بیان کرتے آئے اور پھر اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کی عظمت بیان فرمائی۔پھر بھی لوگ اس کے لئے اتنے پریشان نہیں ہوتے جتنا 15 ویں رجب کو حلوے کے لئے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ معین رات ہے۔اس لئے لوگ جاگ لیتے ہیں مگر لَيْلَةُ الْقَدْر چونکہ معین نہیں بلکہ اسے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔اس لئے اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے مگر یہ نیکی کی نہیں کمزوری کی علامت ہے۔پندرھویں رجب کے متعلق وہ خیال کرتے ہیں کہ ایک رات ہے جاگ کر کاٹنی کیا مشکل ہے، اس لئے کاٹ لیتے ہیں مگر رمضان میں مسلسل تیں راتیں جاگنا پڑتا ہے۔اس لئے نہیں جاگتے۔وہ جھوٹے موتی کے خریدار بنتے ہیں اس لئے کہ اس کی قیمت تھوڑی ہے مگر نیچے موتی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔اس لئے کہ اس کی قیمت زیادہ ہے۔اس سچے موتی کی قیمت ایک مہینہ تک راتوں کو اٹھنا ہے اس لئے لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن جھوٹے موتی کی قیمت چونکہ ایک رات ہی ہے۔اس لئے اسے لینے کی کوشش ضرور کرتے ہیں کیونکہ وہ