خطبات محمود (جلد 23) — Page 348
* 1942 348 خطبات محمود کی خدمت میں پیش کر دیئے۔اس پر منافقوں نے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مٹھی بھر جو دے کر دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک رنگ میں جواب دے دیا۔فرماتا ہے کہ مومن کی قربانی تو بیچ کی طرح ہوتی ہے۔۔ایک بیج سو دانے پیدا کرتا ہے اور وہی دانہ تیسرے مقام پر جا کر ایک لاکھ بن جاتا ہے۔پھر وہی لاکھ چھ سات تبدیلیوں میں جاکر اس قدر ہو جاتا ہے کہ ساری دنیا اسی سے کھاتی ہے۔اسی لئے گورنمنٹ پہلے پیج بہت تھوڑے تیار کرتی ہے۔اس سے بعد میں بے شمار فصلیں تیار ہوتی ہیں۔چنانچہ دیکھو کہ ابھی سات آٹھ سال ہوئے کہ نمبر 591 گندم کا بیج نکلا تھا اور اب چند سالوں میں اس قدر گندم ہوئی ہے کہ کروڑوں مئن یہ گندم منڈیوں میں فروخت ہوتی ہے۔یہی حال قربانیوں کا ہے کہ قربانیاں خدا کے راستہ میں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔پس منافقوں کا اعتراض بالکل فضول تھا۔بہر حال صحابہ نے اپنے اپنے رنگ میں قربانیاں کیں، لڑائیوں میں حفاظت کے کام کئے۔جن کے پاس اور کچھ نہیں انہوں نے جانیں ہی پیش کر دیں۔مومن کو قربانی کے لئے ہمیشہ ایسا نقطہ نگاہ رکھنا چاہئے کہ نیچے کے حالات والے کو دیکھے اور اس کے لحاظ سے اپنے دل میں شکر کرے کہ الْحَمْدُ لِلهِ ، میرے لئے تو بڑا موقع ہے کہ مجھے خدا نے اس سے زیادہ دیا ہے۔اس نقطہ نگاہ سے لالچ، حرص، حسد مٹ جاتا ہے۔امریکہ کے کروڑ پتی باوجود اس قدر مالدار ہونے کے اپنے دل میں خوش نہیں بلکہ وہ کمیٹیاں بناتے ہیں اور ٹرسٹ قائم کرتے ہیں کہ مثلاً سارا مٹی کا تیل ہمارے قبضہ میں آ جائے پھر جس طرح چاہیں بیچیں۔یہ سب اسی لئے ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے روپے اور بھی زیادہ ہوں اور یہ حسد اور لالچ کی آگ روپے کے بڑھنے سے اور بھی بڑھتی ہے۔انسان چاہتا ہے کہ ایک لاکھ ہے تو دولا کھ ہو جائے اور کہیں ٹھہرنے کا نام نہیں لیتا۔اس سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جائے اور اپنی حالت پر رہتے ہوئے قربانی کرے اور ناشکری کے تباہ گن گڑھے سے اپنے آپ کو بچائے رکھے تاکہ جب کبھی خدا تعالیٰ کا فضل اسے دنیوی آرام کی پہاڑیوں پر بھیجے تو اس کی واپسی کا راستہ کھلا رہے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے پہاڑ اس پر گر کر اسے خدا تعالیٰ کی طرف