خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 346

* 1942 346 خطبات محمود جس کے پاس کروڑ دو کروڑ ہے۔اس نقطہ نگاہ کے مطابق ہوتے ہواتے ساری خدمت دین صرف دنیا میں ایک شخص پر واجب ہو جاتی ہے جو دنیا کا سب سے زیادہ مالدار ہو باقی سب آزاد ہو جاتے ہیں۔چونکہ نیچے سے بنیاد کج رکھی گئی تھی اس لئے سارے کے سارے معذور ہوتے چلے گئے۔ایک وقت کی روٹی والے نے دو وقت کی روٹی والے کو دیکھا۔اس نے ہفتہ بھر کی روٹی والے کو ، اس نے اس سے اوپر دیکھا حتی کہ آخر میں ایک شخص رہ گیا جو دنیا میں سب سے زیادہ مالدار تھا مگر انسانی نفس جب بہانے بنانے پر آجائے تو پھر وہ آخری شخص کیوں نہیں بنا سکتا۔وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم سے پوچھو کہ ہم کو کس قدر اخراجات کرنے پڑتے ہیں، حد سے زیادہ ٹیکس دینے پڑتے ہیں، پبلک کاموں میں حصہ الگ لینا پڑتا ہے، انتظامات کے اخراجات اور بے شمار ضرور تیں ہوتی ہیں جن پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور اس قدر فکر ہے کہ رات دن سونا حرام ہے۔مجھ سے اچھا تو وہ شخص ہے جس کو کوئی فکر نہیں بلکہ میں نے اس قسم کے لوگوں کی لتب پڑھی ہیں جو مالداروں کو غریبوں سے زیادہ رحم کا مستحق قرار دیتے ہیں۔اگر اس طریق کو اختیار کرنے کی بجائے ہر ایک شخص اپنے سے نیچے کو دیکھنا شروع کر تا تو حالت بالکل الٹ جاتی۔اگر وہ نیچے کو دیکھتا تو کہتا کہ دوسرے لوگ تو محروم ہیں ہمارے پاس تو بہت کچھ ہے ہمیں بہت زیادہ قربانی کرنی چاہئے اور قربانیاں کرتا۔کروڑ پتی لکھ پتیوں کو دیکھ کر ، لکھ پتی ہزاروں والوں کو ، ہزار وں والے سینکڑوں والے کو اور یہ ان کو جن کے پاس سال کے روٹی کپڑے کا سامان ہے ، وہ ان سے نیچے والوں کو ، وہ اپنے سے نیچے والوں کو حتی کہ اُن کو جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔اور جن کے پاس کچھ نہیں وہ بھی اسی طرح شکر کر سکتے ہیں کہ ہمیں بھوک تو لگتی ہے۔بعض مسلول ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، لوگ دے بھی دیں تو انہیں بھوک نہیں لگتی ، وہ کھا نہیں سکتے ، اسی طرح غریب مسلول وغیرہ کی نیکی بھی اپنے لئے راستہ نکال لیتی ہے۔وہ یہ سوچ سکتے ہیں نبی کریم صلی الی یکم نے فرمایا ہے کہ بعض عمل سے نیکی کرنے والے کے برابر ان کو بھی کہ عمل کی توفیق نہیں رکھتے مگر دل سے نیکی کی تڑپ رکھتے ہیں ثواب ملتا ہے 2 اور وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شکر ہے کم سے کم دل سے تو دعا کر سکتے ہیں اور اس مجنون کی طرح نہیں ہیں جو نیکی کی نیت بھی نہیں کر سکتے۔