خطبات محمود (جلد 23) — Page 345
* 1942 خطبات محمود 345 اس شخص کو جس کے ہاں فاقہ ہے اور اس کے دل میں شکر پید اہو ، وہ اوپر والے کی طرف نگاہ کرتا ہے جس کے پاس دو وقت کی روٹی ہوتی ہے اور کہتا ہے کہ دو وقت کی روٹی والا مجھ سے اچھا ہے۔اس پر فرض ہے کہ خدا کے احکام کی فرمانبرداری کرے اور قربانی کرے۔اسی طرح دو وقت کی روٹی والا بجائے ایک وقت کی روٹی والے کو دیکھنے کے اور شکر کرنے کے اوپر والے کی طرف دیکھتا ہے جس کے پاس ایک ہفتہ کی روٹی ہوتی ہے اور کہتا ہے کہ اس ہفتہ بھر کی روٹی کا سامان رکھنے والے پر قربانی فرض ہے۔مجھ پر کہ بالکل غریب ہوں کیونکر قربانی فرض ہو سکتی ہے۔پھر وہ ایک ہفتہ کی روٹی والا بجائے نچلے کو دیکھنے کے اوپر والے کو دیکھتا ہے جس کے پاس تین ماہ کی روٹی ہوتی ہے اور کہتا ہے کہ میرا کیا ہے ایک ہفتہ کے بعد مجھے پھر روٹی کی فکر ہو گی۔اس شخص کو قربانی کرنی چاہئے جو تین ماہ کی روٹی کا سامان رکھتا ہے اور وہ تین ماہ کی روٹی کا سامان رکھنے والا اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے کی بجائے اوپر والے کو دیکھتا ہے جس کے پاس ایک سال کی خوراک ہے اور کہے گا کہ اس شخص پر قربانی واجب ہے جس کے پاس سال بھر کی خوراک خص ہے میر اسامان تو تین ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا اور پھر مجھے فکر کرنا پڑے گا۔وہ اوپر کا آگے اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے جس کے پاس ساری عمر کے لئے جائداد ہے اور کہتا ہے کہ اس شخص کو قربانی کرنی چاہئے جس کے پاس عمر بھر کا کھانا کپڑا موجود ہے۔میں تو کنگال ہوں او روہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے جس کے پاس گزارہ کے لئے اور کچھ پس انداز کرنے کے مطابق جائداد ہے اور کہتا ہے کہ میں خدا کے دین کی خدمت کس طرح کر سکتا ہوں۔اس پر خدمت دین واجب ہے جس کے پاس کچھ زائد بچ جاتا ہے اور جو بیوی بچے کے خرچ اور مال کے انتظام کے بعد پس انداز کر سکتا ہے۔مجھ پر بھلا کیو نکر واجب میں تو اس سے کم ہوں۔پھر وہ شخص اس کو دیکھتا ہے جس کے پاس ہزار دو ہزار جمع ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر کس طرح قربانی واجب ہے۔اس شخص کو قربانی کرنی چاہئے جس کے پاس رقم جمع ہے لیکن یہ شخص پھر آگے بہانہ بناتا ہے کہ ہزار دو ہزار بھی کوئی چیز ہے اس کو قربانی کرنی چاہئے جس کے پاس 60،50 ہزار جمع ہے۔ہزار دو ہزار تو ذرا بیماری آجائے تو خرچ ہو جاتا ہے۔اوپر کا شخص اپنے سے اوپر والے کو جس کے پاس لاکھ دو لاکھ ہے دیکھتا ہے اور وہ اس سے اوپر والے کو