خطبات محمود (جلد 23) — Page 343
* 1942 343 خطبات محمود وہ اس نعمت کے حصول سے جو خدا تعالیٰ کا قرب ہے روک بن جاتی ہے کیونکہ انسان کا اصل وطن تو خدا تعالیٰ ہے۔جب وہ اس کی طرف جانا چاہتا ہے تو یہ چیزیں اس کے رستے میں روک بن جاتی ہیں اور یہ چیز بسا اوقات اس کے لئے نہایت رنج و عذاب کا موجب ہو جاتی ہے بلکہ اس پر ایسی حالت آتی ہے کہ اگر اسے پہلے علم ہو جاتا کہ یہ میرے لئے عذاب کا موجب ہو گی تو وہ اس کے حصول کی خواہش ہی نہ کرتا۔رسول کریم صلی اللہ نیلم کے زمانے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! میں غریب ہوں، میرے پاس کچھ نہیں۔ادھر میں اپنے بھائیوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں، چندے دیتے ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ میں اپنی غربت کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتا۔آپ دعا کریں کہ ہماری تکلیف دور ہو جائے اور ہم بھی اپنے بیوی بچوں کو کھلا سکیں اور دین کی خدمت کر سکیں۔رسول کریم صلی اللہ ہم نے اسی وقت ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشائش دے۔کچھ دنوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ اسے مال ملا، اس میں برکت پڑنی شروع ہوئی یہاں تک کہ اس کے پاس اس قدر دولت ہو گئی، اس قدر مویشی ہو گئے کہ ان پر زکوۃ واجب ہو گئی۔رسول کریم صلی ال نیم کی طرف سے زکوۃ وصول کرنے والا افسر اس کے پاس گیا اور زکوۃ مانگی لیکن وہی شخص جس نے رسول کریم صلی لیلی سے اس لئے دعا کرائی تھی کہ اگر اس کی حالت اچھی ہو جائے تو خدا کے راستہ میں قربانیاں کرے گا، چندے دے گا۔جب خدا تعالیٰ نے اس کی حالت درست کر دی تو اس نے اس افسر کو جواب دیا کہ زکوۃ لینے آجاتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ انسان پر اور ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔اس نے اپنے بیوی بچوں پر بھی خرچ کرنا ہوتا ہے اور اخراجات بھی ہوتے ہیں۔بس اسی سے کام ہے کہ زکو تیں دو۔اس افسر نے یہ جواب سنا اور رسول کریم صلی ال کلیم سے آکر اس کا جواب عرض کر دیا۔کوئی اور شخص ہوتا جس کے پاس پہلے ہی سے مال وغیرہ ہوتا اور وہ اس قسم کا جواب دیتا تو شاید رسول کریم صلعم اسے کچھ اور سزا دیتے مثلاً مقاطعہ کرتے یا اسلام سے خارج قرار دیتے جیسا کہ حضرت ابو بکڑ نے کیا لیکن چونکہ اس شخص نے دعا کے ذریعہ یہ دولت حاصل کی تھی۔رسول کریم صلی الیم نے اسے مقاطعہ وغیرہ کی سزا نہ دی بلکہ یہ سزا دی کہ آئندہ اس سے زکوۃ وصول نہ کی جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس آدمی کے دل میں دعا کراتے سة