خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 291

* 1942 291 خطبات محمود اور لا پروائی پر کہ ایک نہیں دو نہیں متواتر چار بادشاہوں کو خطوط لکھے جاتے رہے اور ہمارے آباء انہیں توجہ دلاتے رہے کہ سکھوں کے مقابلہ کے لئے فوج بھیجی جائے مگر جیسا کہ ان خطوں سے ظاہر ہے وہ ہر خط کا یہی جواب دے دیتے کہ آپ کا خط پہنچا ہم بڑے خوش ہیں کہ آپ اپنے ملک میں سکھوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ہمارا بھی ارادہ ہے کہ ہم کسی وقت پنجاب کی طرف آئیں اور اس فتنہ کا مقابلہ کریں مگر وہ چاروں بادشاہ یہ ارادہ کرتے کرتے ہی مر گئے۔ان چار بادشاہوں میں سے محمد شاہ، احمد شاہ اور شاہ عالم کے نام مجھے اس وقت یاد ہیں۔چوتھے بادشاہ کا نام یاد نہیں رہا۔یہ چاروں بادشاہ یہی کہتے رہے کہ ہمارا ارادہ ہے ہم پنجاب میں آئیں اور ایک نے تو لکھا کہ میں وزیر آباد میں آنے والا ہوں۔جب وزیر آباد میں آیا تو اس علاقہ کی طرف بھی آؤں گا مگر وہ بھی نہ آیا۔آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ملک ان کے ہاتھ سے نکل گیا، عزت برباد ہو گئی اور مسلمانوں کی حکومت کا نام و نشان تک مٹ گیا۔یہ بے غیرتی اور بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ چار بادشاہ ارادہ ہی کرتے رہے کہ وہ کسی وقت پنجاب کی طرف آئیں گے مگر ایک بادشاہ نے بھی اس ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنایا۔یہ بے حسی اور ملکی امور سے بے تو جہی ہی تھی جس نے مسلمانوں کو برباد کیا اگر اس گری ہوئی حالت میں بھی مسلمان قربانی سے کام لیتے اور بے غیرتی کا بدترین نمونہ نہ دکھاتے تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ پنجاب یا بنگال میں اپنا قدم بھی رکھ سکتا کیونکہ جو لوگ مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو تا۔یہ بے حسیاں ہی ہیں جو ملکوں کو غلام بناتی ہیں اور یہ بے حسیاں ہی ہیں جو ملکوں کو تباہ و برباد کر دیا کرتی ہیں۔پس میرے نزدیک ہندوستان پر قبضہ کرنے کا الزام انگریزوں پر لگانا کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتا۔یہ الزام خود ہندوستانیوں پر عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے بے غیرتی سے کام لیا اور بجائے قربانی سے کام لینے کے غلام بننا منظور کر لیا۔ہندوستان اس وقت ایک گرا ہوا شکار تھا اور ایسے شکار پر قبضہ کر لینا اسلام نے جائز رکھا ہے چنانچہ رسول کریم صلی علیکم سے کسی شخص نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! اگر کوئی اونٹ جنگل میں آوارہ پھر رہا ہو تو آیا میں اس پر قبضہ کر لوں۔آپ نے فرمایا تیرا اونٹ سے کیا کام؟ اس کی خوراک درختوں پر ہے، اس کا پانی اس کے پاس ہے۔(اونٹ کے اندر ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں پانی جمع رہتا ہے) تیرا اس