خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 228

* 1942 228 خطبات محمود چودھری صاحب نے اگلے دن اس رؤیا کا ذکر اپنے کئی دوستوں سے اور ھز ایکسیلنسی وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری سر لیتھویٹ سے بھی کیا۔ان پر اس کا ایسا اثر تھا کہ دوسرے یا تیسرے دن جب وہ چودھری صاحب کے ہاں چائے پر آئے تو انہوں نے خود مجھ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا کہ آپ نے کیا رؤیا دیکھا ہے اور میں نے ان سے مکمل رویا بیان کیا۔اس کے دو ماہ بعد انگریزی فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی۔1941ء میں دشمن پھر آگے بڑھا اور انگریزی فوج کو دھکیلتا ہوا مصری سرحد پر لے آیا۔نومبر 1941ء میں پھر انگریزی فوج نے حملہ کیا اور دشمن کی فوجوں کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سر حد پر لے آئی ہیں۔میں نے یہ رویا 1940ء کے جلسہ پر بھی ہیں پچیس ہزار کے مجمع میں سنایا تھا اور غالباً جلسہ کی روئیداد میں شائع بھی ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے غیب کے ثبوتوں میں سے یہ ایک عظیم الشان ثبوت ہے اور یہ ایک ایسی لڑائی ہے کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ پہلے ایک فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے جائے اور پھر وہ اسے دھکیل کر واپس لے آئے اور متواتر دو تین بار ایسا ہوا ہو اور ہر بار فاتح فریق یہ سمجھے کہ اس نے دوسرے کی طاقت کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔میں نے ایک انگریز فوجی مبصر کی ایک تحریر پڑھی ہے جو اس نے ایک مضمون کے دوران میں شائع کی ہے۔اس نے روس کی لڑائی کو غیر معمولی قرار دیا اور لکھا ہے کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس طرح کوئی دشمن کسی ملک میں اتنی دور تک گھس آیا ہو اور پھر دوسری فوج اس کے پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔یہ دعویٰ اس کا صحیح ہو یا نہ ہو مگر اس میں شک نہیں کہ لیبیا کی لڑائی کی کوئی مثال یقیناً تاریخ میں نہیں ملتی کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کئی سو میل تک دھکیلتا ہوا لے جائے۔پھر دوسرا فریق اسے دھکیل کر باہر نکال دے۔پھر پہلا فریق اسے دوبارہ دھکیل کر باہر نکال دے۔پھر دوسرا فریق اسے دھکیل کر سینکڑوں میل تک لے جائے مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا تھا لیبیا کی جنگ میں تین بار ایسا ہو چکا ہے اور تینوں دفعہ ایک فریق نے یہی سمجھا کہ اس نے دوسرے کو بالکل کچل دیا ہے۔پہلے اطالوی فوجیں آگے بڑھیں اور