خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 224

* 1942 224 خطبات محمود کہ خدا کا کلام ظرف کے مطابق اترتا ہے پس بے شک وہ خدا کا کلام ہے مگر جہاں وہ خدا کا کلام اور اس کا الہام ہے وہاں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محمدعلی ملی یکم کا ظرف کتنا بڑا ہے۔میری تو یہ حالت ہے کہ اس کتاب کو دیکھ کر بعض دفعہ میری مجنونانہ حالت ہو جاتی ہے اور جب میں اس کے علوم کو دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں۔ہے تو وہ پاگلوں کی سی بات مگر چونکہ خدا کے کلام کی شان اس سے ظاہر ہوتی ہے اس لئے میں اسے بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے۔میں ایک دن قرآن کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے مطالب در مطالب مجھ پر کھلنے لگے اور ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا نکتہ مجھ پر کھلنے لگ گیا اور ایساعلوم کا تانتا بندھا کہ میری عقل حیران ہو گئی اور میں نے یہ کہتے ہوئے قرآن کو اپنے سامنے فرش پر رکھ دیا کہ واہ اللہ میاں ! تیری کتاب بھی عجیب ہے۔تو یہ ایک ایسا علم خدا نے ہمیں دیا ہے کہ اگر ہزاروں سال تک دنیا کے عالم اس کی خوشہ چینی کرتے رہیں تب بھی یہ علم ختم نہیں ہو سکتا۔پس اگر خدا سے سچا تعلق ہو تو ظاہری علم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسے شخص کو علم لدنی عطا کیا جاتا ہے اور وہ کسی موقع پر بھی شرمندہ نہیں ہو تا خواہ دنیا کے کتنے بڑے بڑے عالموں سے اس کا مقابلہ کیوں نہ ہو۔پس اپنی جماعت کے عہدیدار منتخب کرتے وقت ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھو کہ ان میں دین ہو تقویٰ ہو، پاکیزگی ہو۔اللہ تعالیٰ کی سچی محبت ہو اور ہر قسم کی قربانی کے لئے وہ تیار رہنے والے ہوں۔اگر ان میں دین اور تقویٰ نہیں اور محض اس لئے عہدہ دے دیا جاتا ہے کہ کوئی شخص بڑا چلتا پر زہ ہے یا حکام کے نزدیک عزت رکھتا ہے یا بڑی تنخواہ لیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کو اپنا عہدیدار بنانے والے اسلام اور احمدیت کی طاقت کے منکر ہیں۔ایسے لوگ یادر کھیں کہ ان کی نہ انجمنیں کامیاب ہو سکتی ہیں نہ عہدیدار کامیاب ہو سکتے ہیں۔یہ شکست خوردہ ذہنیت کے بھگوڑے ہیں اور جب بھی اسلام کی طرف سے جنگ ہو گی یہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے اور شیطان کا مقابلہ کرنے کے لئے وہی لوگ آگے آئیں گے جو گو بظاہر کمزور اور ناطاقت ہیں۔مگر ان کے ایمان کی طاقت ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔“ (الفضل 30 جون 1942ء)