خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 222

* 1942 222 خطبات محمود کر کے کہنے لگے کہ میں ان سے اجازت لے کر آیا ہوں اور امیر صاحب نے بھی کہا کہ میں نے انہیں آنے کی اجازت دے دی تھی۔پھر وہاں میں نے دو دن قیام کیا اور میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان جو صرف ساٹھ ستر یا اسی روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا احمدیت کا اخلاص رکھنے اور اس کی تعلیم کو سمجھنے کی وجہ سے ذرا بھی ان افسروں سے مرعوب نہیں تھا اور ایسی عمدگی سے ان پر حکومت کر رہا تھا کہ مجھے دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی کہ یہ سچا احمد ی نمونہ ہے اور وہ دوسرے افسر بھی اس کی اطاعت کر رہے تھے اور اپنی ذات میں ان کی اطاعت بھی ایک نمونہ تھی مگر ایک معمولی تنخواہ پانے والے کا اپنی تنخواہ سے دس دس پندرہ پندرہ گنازیادہ تنخواہ لینے والوں اور اپنے افسروں سے بھی بڑے افسروں پر حکومت چلا لینا ان کی قربانی سے زیادہ بہتر نمونہ تھا جس کے ساتھ حکمت عملی بھی شامل تھی۔تو مومن جب کوئی کام کرتا ہے وہ اس بات کی کوئی پر واہ نہیں کرتا کہ بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ بڑا وہی ہے جو سب سے بڑے کی اطاعت کرے اور انسانوں میں سے سب سے بڑے محمد صلی ا مل ہیں۔پس جو شخص ان کی اطاعت نہیں کرتا وہ بڑا کس طرح ہو سکتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہی واقعہ ہے۔کوفہ کے لوگ بڑے باغی تھے اور وہ ہمیشہ اپنے افسروں کے خلاف شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ فلاں قاضی ایسا ہے فلاں میں یہ نقص ہے اور فلاں میں وہ نقص ہے۔حضرت عمران کی شکایت پر حکام کو بدل دیتے اور اور افسر مقرر کر کے بھیج دیتے بعض لوگوں نے کہا بھی کہ یہ طریق درست نہیں۔آپ بار بار افسروں کو نہ بدلیں مگر حضرت عمرؓ نے کہا میں افسروں کو بدلتا ہی چلا جاؤں گا۔یہانتک کہ کوفہ والے خود ہی تھک جائیں۔جب اسی طرح ایک عرصہ تک ان کی طرف سے شکایتیں آتی رہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا اب میں کوفہ والوں کو ایک ایسا گورنر بھیجواؤں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا۔یہ گورنر انیس سال کا ایک نوجوان تھا۔عبد الرحمان اس کا نام تھا۔جب کوفے والوں کو پتہ لگا کہ انیس سال کا ایک لڑکا ان کا گورنر مقرر ہو کر آیا ہے تو انہوں نے کہا آؤ ہم سب مل کر اس سے مذاق کریں۔وہ شریر اور شوخ تو تھے ہی۔انہوں نے بڑے بڑے مجتہ پوش لوگوں کو جو ستر ستر ، استی استی، توے توے سال کے تھے اکٹھا کیا اور فیصلہ کیا کہ ان سب بوڑھوں کے ساتھ شہر کے