خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 208

* 1942 208 خطبات محمود مگر بہر حال شلوار پہننے والے اور تنگ پاجامہ پہننے والے دونوں ہی جب گرم پاجامے بنواتے ہیں تو وہ تنگ ہوتے ہیں اور اپنی شکل میں پتلون کے مشابہ ہوتے ہیں۔وہاں چونکہ سردی شدید ہوتی ہے اور وہاں کی سردی کی شدت کی وجہ سے میں یہاں سے گرم پاجامے بنوا کر لے گیا تھا مگر جب ہمارے اس مبلغ نے مجھے یہ مشورہ دیا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ وہی ابلیس جس نے پہلے حوا کو بہکا کر آدم کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اسی ابلیس نے ہمارے اس مبلغ کو بہر کایا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اب مجھے بھی بہکانے کی کوشش کرے چنانچہ میں نے اسی وقت نیت کر لی کہ اب میں گرم پاجامہ بھی یہاں نہیں پہنوں گا گو گرم پاجامے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی پہن لیا کرتے تھے اور اس ملک میں گرم پاجامہ پہننے کے یہ معنی ہر گز نہیں تھے کہ انگریزی تمدن سے ڈر کر یا انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے میں نے ایسا پاجامہ پہنا ہے اور گو میرا یہ فعل سردی کی وجہ سے ہوتا نہ کہ مغربیت کا اثر قبول کرنے کی وجہ سے مگر چونکہ لوگوں کے دلوں میں اس سے یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ مغربی تمدن سے تھوڑی سی صلح کر لی گئی ہے اس لئے جتنا جتنا وہ مبلغ اس بات پر زور دیتے کہ خدا کے لئے شلوار چھوڑ دیں لوگ ہنستے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ گویا آپ ننگے پھر رہے ہیں اتنا ہی میرا دل اس بات پر اور زیادہ مضبوط ہو جاتا کہ میں اس ملک میں اب شلوار پہننا نہیں چھوڑوں گا خواہ یہاں کے رہنے والے یہی سمجھیں کہ ہم ننگے پھر رہے ہیں۔انگریزوں میں دستور ہے کہ گرتا پاجامہ ان کے نزدیک رات کا لباس ہوتا ہے اور یہ ان کے دلوں پر اتنا حاوی ہے کہ ہمارے ایک مسلغ نے جو امریکہ میں بھی رہ چکے ہیں مجھے سنایا کہ ایک دن آٹھ نو بجے کے قریب وہ اپنے کمرہ میں بیٹھے تھے کہ دو عور تیں آئیں اور انہوں نے دروازہ پر دستک دی، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق بعض مسائل معلوم کرنا چاہتی ہیں۔ہمارے وہ مبلغ اس وقت ہندوستانی لباس میں تھے مگر ان عورتوں کے جوش اور اخلاص کو دیکھ کر وہ نہایت شوق سے نیچے اترے اور انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے شکار بھیجا ہے مگر جو نہی عورتوں نے ان کو دیکھا وہ چھینیں مارتی ہوئی گلی میں بھاگ گئیں اور شور مچانے لگ گئیں کہ ایک پاگل نگا نکل آیا ہے۔اس شور پر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ہمارے اس مبلغ نے بتایا کہ میں تو انہیں تبلیغ کرنے کے لئے آیا تھا مگر یہ