خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 188

* 1942 188 خطبات محمود کہ وہ اپنا کوئی عقیدہ چھوڑ دے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہے۔ابو طالب نے آپ سے یہ بھی کہا کہ میرے بھتیجے میں نے کس طرح ہر مصیبت کے وقت تیری مدد کی ہے مگر قوم آخر قوم ہی ہے آج تو وہ مجھے بھی نوٹس دے گئے ہیں کہ اگر تم اپنے بھتیجے سے اتنی سی بات بھی نہ منو ا سکو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم بھی اس کے ساتھ ہو اور ہم تم سے بھی قطع تعلق کر لیں گے۔چونکہ ابو طالب کے آنحضرت صلی للی کم پر احسان تھے اور وہ ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتے آئے تھے اس لئے اس بات کا خیال کر کے کہ ابو طالب کو اپنی قوم کے چھوٹ جانے کا ڈر ہے۔آپ نے فرمایا چچا آپ کے مجھ پر بڑے احسان ہیں، آپ سے میں کچھ نہیں کہتا، آپ بے شک اپنی قوم سے صلح کر لیں اور لوگوں کو خوش کر لیں اور بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں لیکن اگر وہ دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند لا کر کھڑا کر دیں تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید میں کسی قسم کی کمی کرنے کو میں تیار نہ ہوں گا۔ابو طالب مسلمان نہ تھے مگر صداقت بہر حال دل پر اثر کرتی ہے۔یہ بات سن کر آپ نے کہا کہ میرے بھیجے جا، جس چیز کو تو سچائی سمجھتا ہے اسے بے شک پھیلا۔میں تیرے ساتھ ہوں۔تو سچائی کے لئے انسان اگر ایک رنگ میں ذلت بھی اٹھائے تو خدا تعالیٰ اسے دوبارہ قائم کر دیتا ہے۔لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ذلیل کرنے کی کتنی کوششیں کیں مگر کیا وہ کامیاب ہوئے۔پھر وہ تو پرانی باتیں ہیں۔احرار کے فتنہ کو تو تم لوگوں نے خود دیکھا ہے۔1934ء سے شروع کر کے دو تین سال پیچھے تک انہوں نے کتنازور لگایا، وہ کس جوش سے آتے تھے اور دھڑلے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گندے اعتراضات کرتے اور گندے الفاظ سے آپ کو یاد کرتے تھے اور کس دعوے سے کہتے تھے کہ ہم مرزائیت کا جنازہ نکال دیں گے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا نام انہوں نے مرزائیت رکھا ہوا ہے) مگر جنازہ بھی جب نکلتا ہے تو لوگوں کو نظر آتا ہے۔لیکن ان احرار کا تو اب جنازہ بھی کہیں نظر نہیں آتا۔تم میں سے کتنے تھے جو اس شورش سے ڈرا کرتے تھے ، کئی گھبرا گھبرا کر مجھے رقعے لکھتے تھے کہ اب کیا ہو گا، کئی تھے جن کو گورنمنٹ پر غصہ آتا تھا کہ وہ کیوں کچھ کرتی نہیں مگر میرا دل یقین سے پر تھا اور میں یقین رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی بات کو کوئی انسان رڈ نہیں کر سکتا۔پس میں نہ احرار کی شرارتوں سے