خطبات محمود (جلد 23) — Page 134
* 1942 134 خطبات محمود لاگت کے لحاظ سے ہونے چاہئیں۔ہاں موقع کالحاظ ضروری ہے۔ایک مکان آبادی سے تین چار میل دور ہو تو خواہ اس پر دس ہزار روپیہ کیوں نہ خرچ آیا ہو۔اس کا کرایہ خرچ کے لحاظ سے نہیں ہو سکتا۔پس نظارت امور عامہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ یہاں مکانوں کے کرائے نہ تو حد سے بڑھ جائیں اور نہ گر جائیں۔کرایوں کا اندازہ کیا جائے۔گورداسپور اور بٹالہ سے معلومات حاصل کی جائیں اور پھر ایک حد مقرر کر دی جائے اور جو لوگ پہلے سے مکانوں میں رہتے ہیں۔مقررہ اضافہ کا ان سے بھی مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ زیادہ نہ دینا چاہیں تو مکان خالی کر دیں لیکن اگر وہ اضافہ منظور کر لیں تو پھر ان کو نکالا نہیں جاسکتا۔سوائے اس کے کہ مالک مکان کو خود ضرورت ہو یا اس کے ایسے رشتہ دار کو جس کا گزارہ اسی پر ہے مثلا کسی کی بیوی یا بچے اور جو شخص اپنا مکان خالی کرانا چاہے اس کا زبانی کہنا کافی نہیں بلکہ اسے چاہئے کہ تحریری نوٹس دے جس میں وجہ لکھے کہ وہ کیوں خالی کرانا چاہتا ہے اور وہ نوٹس امور عامہ کو دیا جائے جو اس بات کی تحقیق کرے گا اور اگر یہ ثابت ہوا کہ مکان صرف بہانہ سے خالی کرایا گیا ہے تا دوسرے سے زیادہ کرایہ وصول کیا جا سکے تو ایسے شخص کا مکان کسی احمدی کو لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس نے دھو کا کیا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص اپنامکان کسی غیر احمدی کو دے دے۔اس صورت میں بھی اسے سلسلہ کی طرف سے کوئی دوسری سزا دی جائے گی اور اگر اس نے اس سے بھی بچنے کا کوئی اور ذریعہ تجویز کر لیا تو سلسلہ بھی اسے سزا دینے کا کوئی اور جائز ذریعہ اختیار کرے گا۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ کسی کو اجازت نہیں کہ اپنے مکان سے کرایہ دار کو بلا وجہ نکالے،اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مکان کا کرایہ زیادہ ہونا چاہئے تو چاہئے کہ وہ امور عامہ میں دعویٰ کرے اور وہ دیکھے کہ مکان کتنے میں بنا تھا۔آج کا حساب نہ لگایا جائے کیونکہ آج تو ہیں اکیس روپیہ ہزار اینٹ ملتی ہے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ جب یہ مکان بنا اس وقت لاگت کیا تھی۔اس وقت کی قیمت دیکھی جائے اور اس کے لحاظ سے مکان کا جائز کرایہ دلایا جائے اور اگر کوئی کرایہ دار وہ کرایہ نہ دے تو بے شک مالک کو حق ہو گا کہ اسے خالی کرالے اور نظام اس کے خالی کرانے میں اس کی مدد کرے گا لیکن اگر کوئی شخص دھوکا اور بہانہ سے اور اپنے حق