خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 131

* 1942 131 خطبات محمود مکان کی آمدنی جائز سمجھی جاتی ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ ایک دو روپیہ فی صدی مرمت وغیرہ پر خرچ آتا ہے۔ایک دو فیصدی اس کی بوسیدگی کا اور باقی تین چار روپیہ مالک کے روپیہ کا حق ہے اور عام تجارتوں کے لحاظ سے یہ زیادہ نہیں۔تاجر لوگ اس سے بہت زیادہ نفع کماتے ہیں۔دو سو روپیہ سے جو تجارت شروع کی جائے۔وہ سال میں ڈیڑھ دو سو روپیہ منافع لاتی ہے۔گویا سو فی صدی منافع ہوتا ہے اور اگر اس میں سے کام کرنے والے کی مزدوری بھی وضع کی جائے تو خالص تجارتی منافع 50 فی صدی تک چلا جاتا ہے مکان پر جو روپیہ لگایا جائے۔اس میں چونکہ خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ دوسری تجارتوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہو تا ہے۔اس واسطے چھ فیصدی یہ کم نہیں۔لیکن یہ زیادہ بھی نہیں اور عام طور پر یہ شرح جائز سمجھی گئی ہے اور اگر کسی کو اتنا کرایہ مل جائے تو مرمت وغیرہ کا خرچ اور مکان بوسیدگی کا معاوضہ اگر مد نظر رکھا جائے تو یہ منافع کم یا زیادہ نہیں ہے لیکن یہاں کرائے اس نسبت سے بہت کم ہیں۔جس مکان پر پانچ ہزار روپیہ لگا ہو۔چھ فیصدی کے لحاظ سے اس کا کرایہ 25 یا 30 روپیہ ماہوار چاہیے۔مگر یہاں ایک بھی مکان ایسا نہیں جو اتنے کرایہ پر چڑھا ہوا ہو بلکہ پندرہ روپیہ بھی شاید ہی کسی ایسے مکان کا کرایہ ہو بالعموم آٹھ آٹھ دس دس روپیہ کرایہ ایسے مکان کا ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے ہمارے ایک عزیز نے یہاں مکان بنوایا وہ میری ہی معرفت بنا اور میرے ہی ذریعہ اس پر روپیہ خرچ کیا گیا اس پر قریباً 27 سو روپیہ خرچ آیا تھا مگر ایک دفعہ انہیں اسے کرایہ پر دینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو کوئی چھ روپیہ کرایہ بھی دینے کو تیار نہ تھا۔حالانکہ عام مروجہ شرح کے لحاظ سے اس کا کرایہ 12، 13 روپیہ ماہوار ہونا چاہئے تھا مگر چھ روپیہ بھی نہ مل سکا۔اگر چہ اب اگر وہ اسے خالی کر دیں تو ممکن ہے 15، 16 بھی کوئی دے دے۔مگر جنگ سے قبل چھ روپیہ بھی بمشکل مل سکتا تھا، میں اس لئے کہتا ہوں کہ ایک شخص چھ روپیہ دینے کو تیار ہوا تھا مگر بعد میں انکار کر دیا۔اگر چھ روپیہ مل جاتا تو اس کے معنے ہوئے 72 روپیہ سال۔اس میں سے اگر 12 روپیہ بھی معمولی مرمت وغیرہ کے نکال دیئے جائیں تو باقی ساٹھ بچے اور اگر ساٹھ کو 2700 پر پھیلایا جائے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ 27 فیصدی سے بھی کچھ کم۔اور یہ کوئی منافع نہیں بعض حالتوں میں بنک کا سود بھی اس سے زیادہ ہوتا ہے حالانکہ