خطبات محمود (جلد 23) — Page 123
$1942 123 خطبات محمود (2) يَا حَفِيْظُ يَا عَزِيْزُ يَا رَفِيْقُ اگر ہم غور سے دیکھیں تو در حقیقت یہ دونوں دعائیں ایک دوسرے کی ترجمان ہیں کیونکہ اس دعا میں تین صفات کا ذکر ہے حفیظ، عزیز اور رفیق کا اور پہلی دعا میں بھی خدا تعالیٰ کے مالک ہونے کا ذکر ہے جو عزیز کا ہم معنی ہے۔فرماتا ہے رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ اے رب ہر چیز تیری خادم ہے اور جس کی ہر چیز خادم ہو گی وہی عزیز ہو گا۔تو رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ کی جگہ اس دعا میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یا عَزِيزُ۔پھر اُس دعا میں تھا رَت فَاحْفَظْنِی اے میرے رب تیری ہر چیز خادم ہے پس تو میری حفاظت فرما کیونکہ جب ہر چیز تیری خادم ہوئی تو تیرے کہنے کے بغیر وہ نہیں ہلے گی۔تو ہی حکم دے گا تو ان میں نفع یا نقصان کے لئے کوئی حرکت پیدا ہو گی پس وہاں فاحفظنی کہا گیا ہے۔اس کے مقابلہ میں دوسری دعا میں يَا حَفِيظٌ کہا گیا۔پس وہاں بھی حفاظت کا ذکر ہے اور یہاں بھی خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کا ذکر کر کے اس سے حفاظت طلب کی گئی ہے۔پھر تیسری صفت جو اس دعا میں استعمال کی گئی ہے وہ رفیق ہے چنانچہ کہا گیا ہے یا رفیق۔اے رفیق اور دنیا میں رفیق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک رفیق وہ ہوتے ہیں جو نگرانِ بالا کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے ماں باپ رفیق ہوتے ہیں مگر ان کی رفاقت بالا رنگ رکھتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے نگران ہوتے ہیں۔مگر ایک رفیق وہ ہوتے ہیں جنہیں ساتھی، دوست اور بھائی کہا جاتا ہے، وہ مصیبت کے وقت کام آتے اور دکھ میں اپنے ساتھی کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے بھی اپنے بندوں سے دو قسم کے تعلق ہوتے ہیں۔کسی وقت تو اس کا تعلق دوستی اور محبت کا رنگ لئے ہوئے ہو تا ہے اور وہ کہتا ہے۔اے میرے بندے مجھ سے اپنی تکالیف بیان کر کہ میں تیری تکلیفوں کو دور کروں۔مگر کبھی وہ کہتا ہے اے میرے بندے میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ تو ایسا کر۔پس چونکہ اس کا اپنے بندوں سے دو قسم کا تعلق ہوتا ہے اس لئے رفیق کے مقابلہ میں بھی دو الفاظ رکھے کہ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي یعنی جہانتک تیری رفاقت کا تعلق اس بات سے ہے کہ تو تنزل فرما کر مجھے اپنی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے بتا تیری مرضی کیا ہے کہ میں اس کے مطابق تیر اکام کر دوں۔اس حد تک میری تجھ سے یہ دعا ہے کہ تو مجھے اپنی سعی پر نہ رہنے دے کیونکہ کیا معلوم میری کوشش