خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 11

* 1942 11 خطبات محمود دکھاتے ہیں تیس منٹ کے اندر اندر مارے گئے۔وہ ایک دشمن کو زیر کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ پیچھے سے ایک شخص نے خنجر مار دیا اور وہ بہادر جو اسلام کے ابتدائی ایام کے زبر دست جرنیلوں میں سے تھا اور جسے لڑائی میں شامل ہوئے ابھی بمشکل نصف گھنٹہ گزرا تھا۔شہید ہو گیا۔اس کے مقابلہ میں کئی لوگ بعد میں آئے اور وہ بارہ بارہ تیرہ تیرہ جنگوں میں رسول کریم صلی اللہ کریم کے ساتھ شامل رہے اور آپ کی وفات کے بعد بیسیوں جنگوں میں شامل ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت انہیں شہید ہونے کا موقع نہ ملا۔حضرت خالد بن ولید جنہیں رسول کریم صلی الم نے سَيْفٌ مِّنْ سُيُوفِ اللَّهِ قرار دیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، ان کے دل میں اسلام کو پھیلانے کا جو جوش تھا وہ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔وہ سالہا سال اسلامی فوج کے کمانڈر رہے اور اسلامی فوج کا کمانڈر گھر میں نہیں بیٹھ رہتا تھا بلکہ وہ لڑائی میں فوج کے ساتھ شامل ہوا کرتا تھا۔حضرت خالد بن ولید بھی لڑائی میں شامل ہوتے اور ہر موقع پر جہاں جنگ کا زور ہو تا تھا اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیتے تھے۔گو جر نیل ہونے کے لحاظ سے ان کے لئے یہ بات نامناسب تھی اور بڑے بڑے صحابہ ان کو کہا بھی کرتے تھے کہ یہ طریق آپ کے منصب کے خلاف ہے آپ کا کام فوج کو صحیح طور پر لڑانا ہے نہ کہ اپنے آپ کو ہر خطرہ کے مقام پر ڈال دینا۔مگر جوش شہادت میں وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ خطرناک مواقع پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے میدان جنگ میں کود پڑتے تھے۔مگر مشیت ایزدی کے ماتحت وہ شہید نہ ہوئے بلکہ ایک لمبی بیماری کے بعد انہوں نے گھر میں وفات پائی۔حالانکہ بیسیوں لوگ جنہوں نے ان کے بعد اسلام قبول کیا تھا اور جنہیں ان خطرات میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا جن خطرات میں شامل ہونے کا حضرت خالد بن ولید کو موقع ملا۔وہ آپ سے پہلے شہادت پاگئے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ جب حضرت خالد وفات پانے لگے تو ایک دوست ان کے ملنے کے لئے آیا۔اور اس نے دیکھا کہ حضرت خالد حسرت کے ساتھ کراہ رہے ہیں۔وہ کہنے لگا خالد! کیوں کراہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔حضرت خالد نے یہ سنا تو بے اختیار رو پڑے اور کہنے لگے میں نے اپنی ساری عمر اس انتظار اور اس امید میں گزار دی