خطبات محمود (جلد 22) — Page 708
* 1941 708 خطبات محمود تین سال تک اپنے اوپر فاقے برداشت کئے۔سات فاقوں کے معنے یہ ہیں کہ قریباً جلسہ کے تمام ایام وہ فاقہ سے رہتے تھے۔مثلاً 26 کی صبح کا فاقہ ایک،26 کی شام کا فاقہ دو، 27 کی صبح کا فاقہ تیسرا اور 27 کی شام کا فاقہ چوتھا، 28 کی صبح کا فاقہ پانچواں اور 28 کی شام کا فاقہ چھٹا اور ابھی ایک فاقہ باقی رہتا ہے۔گویا اگر جلسہ سالانہ کے ان ایام میں آپ لوگوں کے لئے کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا، پانی کا کوئی انتظام نہ ہوتا اور آپ دین کی باتیں سننے کے لئے بیٹھے رہتے تو کہا جا سکتا تھا کہ ابو ہریرہ کی روح آپ میں سرایت کر گئی ہے مگر پھر بھی آپ ابو ہریرہ سے دوسرے نمبر پر ہی رہتے کیونکہ آپ لوگوں کو ایک فاقہ کم کرنا پڑتا۔پس ان ایام کو ضائع مت کرو دعاؤں کی قبولیت کے خاص ایام ہیں اور یہ جلسہ اپنے ساتھ نمایاں طور پر کئی قسم کی برکات رکھتا ہے۔پھر ہم پر ان لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے جو جنگ میں شامل ہیں کہ ہم خاص طور پر ان کے لئے دعائیں کریں۔اسی طرح یہ بیماریوں کے بھی ایام ہیں اور کثرت سے دوستوں کی طرف سے بیماریوں کے خطوط آ رہے ہیں۔پس ان ایام کو اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر زیادہ سے زیادہ دینی باتیں سننے میں لگاؤ۔یہ طریق درست نہیں کہ کسی ایک کی تقریر سننے کے لئے تو آپ بیٹھے رہیں اور دوسروں کی تقریریں نہ سنیں۔مثلاً میں آیا تو آپ میری تقریر سننے کے لئے آ گئے یا اور کوئی دوست ہوا جس کا لیکچر عام طور پر پسند کیا جاتا ہو تو اس کا لیکچر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔اس کے تو یہ معنے ہیں کہ آپ تقریریں خدا کے لئے نہیں سنتے بلکہ کسی کی وجاہت یا کسی۔سے تعلق کی بناء پر تقریریں سنتے ہیں۔حالانکہ کیا پوپلے منہ سے خدا کی باتیں نہیں نکل سکتیں؟ ہم نے تو بعض دفعہ بچوں کے منہ سے ایسی باتیں سنی ہیں جو ہمارے لئے زندگی بھر کا سبق بن گئی ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق ہی ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ متقی ہوتے ہیں وہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں سے نصیحت حاصل کر لیتے ہیں۔کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت امام ابو حنیفہ سے کسی نے کہا آپ تو