خطبات محمود (جلد 22) — Page 673
* 1941 673 خطبات محمود کہ نیلا سمندر کا رنگ ہوتا ہے۔ممکن ہے کوئی خلیج ایسی ہو جسے انگریز محفوظ سمجھتے ہوں مگر وہاں بھی تباہی ہو۔اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی واقعہ بیان کرنا شروع کیا اور اسے بڑی لمبی طرز سے بیان کرنے لگے جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے بلکہ اسے بلا وجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح حافظ صاحب پہلے ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندھر کا کوئی واقعہ بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے اور ایک منشی ” کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گرداور ہے، بار بار ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی ملے اور انہوں نے بھی اس طرح کہا میں خواب میں بڑا گھبراتا ہوں کہ موقع تو حفاظت کے لئے انتظام کرنے کا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی مرکز تلاش کیا جائے۔انہوں نے منشی جی کی باتیں شروع کر دی ہیں۔چنانچہ میں ان سے کہتا ہوں کہ آخر ہوا کیا؟ وہ کہنے لگے منشی جی کہتے تھے کہ ہماری تو جماعت پر ہی نظر ہے۔میں نے کہا بس اتنی ہی بات تھی نا! کہ منشی جی کہتے تھے کہ اب ان کی جماعت احمدیہ پر نظر ہے۔یہ کہہ کر میں انتظام کرنے کے لئے اٹھا اور چاہا کہ کوئی مرکز تلاش کروں کہ میری آنکھ کھل گئی۔خواب سے بیدار ہونے کے بعد اس کی تعبیر میرے ذہن میں یہ آئی کہ اس سے مراد کوئی مقامی فتنہ ہے جس میں دشمن سے ہماری جماعت کو کوئی نقصان پہنچے گا کیونکہ سارے نام اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے ہی تھے مگر نو بجے کے قریب جب ریڈیو کی خبروں کی رپورٹ مجھے ملی اس وقت معلوم ہوا کہ جاپان نے یکدم حملہ کر دیا ہے اور وہ بہت سا آگے بڑھ آیا ہے۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے بعض دفعہ مقامی نظارے دکھائے جاتے ہیں مگر اُن سے مراد ڈور کے نظارے ہوتے ہیں۔مسجد مبارک کے حلقہ کی طرف سے لڑائی جاری رہنے کا غالباً یہ مفہوم ہے کہ بعض انگریزی علاقے جاپانی گھیر لیں گے مگر انگریز برابر لڑتے رہیں گے