خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 655

* 1941 655 خطبات محمود تو وہ قانون کو کیا کرے۔پس تعداد صحیح بتائی جائے اور کھانا بھی پورا دیا جائے۔اس سے ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ صحیح مردم شماری ہو سکے گی اور دوسرا یہ کہ فریب بھی نہ ہو سکے گا۔دس مہمان ہوں تو ہیں بتا دینا یوں بھی جھوٹ ہے۔اس لئے جو ایسا کرتا ہے وہ گناہ کرتا ہے ا اور جو دس کی بجائے آٹھ کا کھانا دیتا ہے وہ بھی غلطی کرتا ہے۔پس ایسے انسپکٹر مقرر کئے جائیں جو اس بات کی نگرانی کریں کہ مہمانوں کی تعداد غلط نہ بتائی جائے اور یہ بھی دیکھیں کہ کھانا پورا ملے۔پرچی لکھوانے والوں کو کہہ دیا جائے کہ مہمانوں کی تعداد صحیح بتاؤ۔ہاں اگر کھانا زیادہ درکار ہو تو اتنا ہی دے دیا جائے گا۔اس سے یہ فائدہ بھی ہو گا کہ بعض مقامی غیر احمدی جو شرارت کرتے ہیں وہ نہ کر سکیں گے اور دھوکا دے کر کھانا لے جانے والوں کی تعداد بہت کم ہو جائے گی۔جو شخص جتنی روٹی کھاتا ہے اسے اتنی ہی دی جائے۔اگر کوئی نہیں کھانے والا ہے تو اسے ہیں ہی دی جائیں۔ان باتوں کا بہت خیال رکھا جائے۔میں نے گزشتہ سال اس کی بعض حکمتیں بتائی تھیں اور بھی بتا سکتا ہوں مگر یہ موقع نہیں۔پس انسپکٹر ضرور مقرر کئے جائیں اور جس کی پرچی جھوٹی ثابت ہو اُسے سزا دی جائے۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کھانا پورا ملے۔اگر کھانا پورا ملنے انتظام کر دیا جائے تو پھر جو جھوٹ بولے اسے وہی سزا دی جائے جو جھوٹ بولنے والوں کو ایک سچی قوم کو دینی چاہئے۔جھوٹ بولنے والا تو مذہب سے بھی خارج ہوتا ہے اور ایسے شخص کو اگر ہم جماعت سے بھی خارج کر دیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔پس جھوٹی پرچیوں کو روکا جائے۔ہر ایک مہمانوں کی تعداد صحیح بتائے۔اگر کسی کے گھر میں دس مہمان ہیں اور وہ دس دس روٹیاں کھانے والے ہیں تو وہ بے شک سو روٹیاں لے جائے مگر تعداد اتنی ہی بتائے جتنے در حقیقت مہمان ہیں۔۔اس سلسلہ میں چوتھی بات وہی ہے جو میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ دوست دعائیں کریں۔جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں یہ بہت نازک زمانہ ہے ہر چیز گراں ہو رہی ہے۔پھر جماعت پر تحریک جدید کا بھی بوجھ ہے۔اس لئے دعائیں کریں اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے۔اس سے جلسہ سالانہ پر بھی آرام ملے گا اور