خطبات محمود (جلد 22) — Page 625
* 1941 625 خطبات محمود کے مبعوث ہونے کی خبر ملے تو اس کے پاس اگر تمہیں گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے تو جاؤ اور اس کی بیعت کرو۔4 پھر آپ نے فرمایا۔اگر تمہیں مسیح مل جائے تو میرا بھی اس سے سلام کہنا۔5 اس خادم کی کیا شان ہے جس کو سلام کہنے کا آقا اتنا مشتاق ہے کہ وہ لوگوں سے کہتا ہے میرا سلام یاد رکھنا اور اسے بھول نہ جانا۔پھر سوچو۔جس شخص کو سلام کہنے کا محمد صلی ال کلام کو اس قدر اشتیاق تھا اُس کی امت کے دلوں میں اس کے متعلق کتنا بڑا اشتیاق پیدا ہونا چاہئے تھا اور اس نعمت کے ملنے پر انہیں کتنا خوش ہونا چاہئے تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ کوئی شخص باہر سے آیا۔غالباً وہ گجرات کے ضلع کا رہنے والا تھا یا کسی اور ضلع کا مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔بہر حال وہ آیا اور اس نے بڑے شوق سے آگے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ اور آپ سے مصافحہ کیا۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔لوگوں کو حیرت ہوئی کہ یہ کیسا عجیب انسان ہے اس نے پہلی دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ دیا تھا تو اب دوبارہ اسے سلام کہنے کی کیا ضرورت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی اس پر حیران سے ہوئے اور آپ نے اس سے پوچھا کہ جب آپ ایک دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ چکے تھے تو اب دوبارہ آپ نے کیوں سلام کیا ہے؟ وہ کہنے لگا۔حضور پہلا سلام محمد صلی اللہ نام کی طرف سے تھا کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب تم مسیح سے ملو تو اسے میر اسلام کہہ دینا۔پس میں نے پہلی دفعہ رسول کریم صلی الم کا سلام آپ کو پہنچایا اور دوسری مرتبہ میں نے اپنی طرف سے آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس شخص کا کیا نام تھا۔میں اس وقت بچہ تھا جب یہ واقعہ ہوا۔مگر میں جانتا ہوں کہ اس سادہ سے فعل سے اس نے اپنے لئے بہت بڑی برکتیں جمع کر لیں کیونکہ بعض دفعہ چھوٹی سی بات بڑے بڑے ثواب کا موجب بن جاتی ئب بن جاتی ہے اور بعض دفعہ چھوٹی سی بات بڑے بڑے عذاب کا موجب بن جاتی ہے۔کیا چھوٹی سی بات تھی جو ایک مدینہ کے نوجوان کے