خطبات محمود (جلد 22) — Page 61
$1941 61 خطبات محمود سکتا سوتا نہیں بلکہ جاگتا ہے اور میں اس سے مدد مانگوں تو اگر کسی مصلحت کے خلاف نہ ہو تو وہ ضرور میری مدد کرے گا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کے بیمار بچے کے پاس ڈاکٹر موجود ہو۔ایسے شخص کا بچہ بھی مر ہے مگر پھر بھی اسے ایک اطمینان ہوتا ہے لیکن جو سمجھتا ہے کہ خدا ممکن ہے میری مدد کے وقت کہاں سویا ہوا ہو۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کا بچہ خطرناک بیمار ہو اور اسے ڈاکٹر نہیں ملتا۔پس اس شخص کا یہ کہنا کہ معلوم نہیں بھگوان کہاں سوئے ہوئے ہیں بتا رہا تھا کہ اس کے دل میں ایک خلجان ہے کہ یہ کیسی مصیبت ہے کہ بھگوان یہ بھی نہیں بتاتے کہ وہ کہاں سو رہے ہیں۔میں ان کے پاس مدد کے لئے جاؤں بھی تو کہاں جاؤں؟ ادھر میرے بچہ کی پھانسی کا وقت مقرر ہو چکا ہے اور حکومت اس وقت پر ضرور پھانسی دے دے گی۔پھر یہ معلوم نہیں کہ یہ کس جنم کے قصور کی سزا ہے مگر ایک مسلمان جانتا ہے کہ اس کا خدا سوتا کبھی نہیں ہر وقت جاگتا اور دیکھتا ہے۔پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو سزا بھی ملتی ہے اسی جنم کی ملتی ہے۔بلکہ ضروری نہیں کسی گناہ کی ہی سزا ہو۔دنیا میں ایک شریعت کا قانون ہے اور ایک طبعی قانون بعض حالتوں میں انسان کو طبعی قانون کے ماتحت دکھ پہنچ جاتا ہے۔وہ کسی گناہ ہے۔کی سزا نہیں ہوتی اور جس شخص کا ان باتوں پر ایمان ہو اس کا دل اطمینان سے بھرا ہے وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ استغفار کرو، توبہ کرو، دعائیں ہوتا کرو تو یہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔مگر جو سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ایک بنے طرح ہے اس نے ہمارے سب گناہوں کا بھی کھاتہ بنا رکھا ہے اور ضرور ہے کہ ہر گناہ کی کسی نہ کسی جنم میں سزا مل کر رہے۔خدا تعالیٰ گناہ کی سزا دیئے بغیر چھوڑتا نہیں۔اس کی حالت کیسی قابل رحم ہے اسے ہر وقت فکر رہتا ہے کہ میرا کوئی گناہ معاف تو ہونا نہیں بلکہ ضرور اس کی سزا ملنی ہے معلوم نہیں کس جنم میں کس گناہ کی ے۔اب تو بنیوں کی زیادتیاں روکنے کے لئے حکومت نے بعض قوانین بنائے ہیں مگر پہلے یہ نہ تھے اور سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو انہوں نے تباہ کیا۔کئی لوگوں نے