خطبات محمود (جلد 22) — Page 573
* 1941 573 خطبات محمود جب ہو اب بظاہر دعا اسی رنگ میں پوری ہونی چاہئے کہ اس کا بیٹا تندرست ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو وہ بڑا ہو کر چور یا ڈاکو یا فسادی بنے گا اور اس طرح اپنے باپ اور خاندان کی بدنامی کا موجب ہو گا۔اُس وقت جب وہ یہ دعا کر رہا ہو گا کہ یا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ یہ میرا بندہ مجھے بڑا پیارا ہے ہم نے اس کی دعا قبول کر لی ہے۔جلدی جاؤ اور اس کے بیٹے کی روح قبض کر لو۔تا ایسا نہ ہو کہ بڑا ہو کر وہ خود بھی گنہگار بنے اور اپنے خاندان کی بدنامی کا بھی موجب بنے۔پس وہ دعا تو یہ کر رہا ہے کہ میرا بیٹا بچ جائے مگر چونکہ خدا یہ جانتا ہے کہ اگر یہ زندہ رہا تو بدنامی کا گا اس لئے وہ دعا کو اس رنگ میں قبول کر لیتا ہے کہ اسے وفات دے دیتا ہے اور اس طرح اسے بدنامی سے بچا لیتا ہے۔دنیا مجھتی ہے کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوئی مگر واقعہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے پس تم اس بات سے مت ڈرو کہ تمہارا مستقبل کیا ہے۔مستقبل کا کام خدا سے تعلق رکھتا ہے تمہارا کام ظاہر پر فیصلہ کرنا ہے اور ظاہر میں ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کی ہوئی ہے۔پس تم یہی دعائیں کرو کہ اللہ تعالی انگریزوں کو فتح دے۔اگر انگریزوں کی فتح میں تمہارے لئے بہتری ہے تو اللہ تعالیٰ انگریزوں کی فتح کے سامان پیدا کر دے گا اور اگر ان کی فتح میں بہتری نہیں تو پھر جس بات میں بھی تمہارے لئے بہتری ہے اللہ تعالیٰ اسے پیدا کر دے گا۔مگر تم بہر حال اُسی صف میں کھڑے ہو جاؤ گے جس صف میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کھڑے ہیں۔۔پس دعائیں کرو اور اس شان سے کرو جس شان کا یہ فتنہ ہے۔یہ نہیں کہ کسی وقت خیال آیا تو دعا کر لی بلکہ اتنی توجہ اور اتنے درد سے دعائیں کرو کہ تمہاری نیندیں تم پر حرام ہو جائیں۔تم بیٹھو تو اس وقت بھی، لیٹو تو اس وقت بھی، اٹھو تو اس وقت بھی۔غرض ہر حرکت اور ہر سکون کے وقت یہ دعائیں تمہاری زبان پر