خطبات محمود (جلد 22) — Page 548
* 1941 548 خطبات محمود بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی۔پس بے شک انہوں نے تلوار اٹھائی اور بے شک انہوں نے لڑائی کی مگر محض خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے۔پس مومن کو اپنے کاموں کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ جو کام وہ کر رہا ہے وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے یا نہیں۔بعض باتیں بظاہر خوبی اور نیکی دکھائی دیتی ہیں مگر شریعت انہیں خوبی نہیں سمجھتی۔جیسے سزائیں دینا ہے قرآن کریم نے بعض سزاؤں کے متعلق یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں مومنوں کی جماعت دیکھے اور ان کے دلوں میں رحم پیدا نہ ہو۔ایسے موقع پر بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ سزا کو نہ دیکھنا اچھا ہے مگر اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اس وقت سزا کو دیکھنا ہی رہے رحمت کا موجب ہوتا ہے۔پس اپنے کاموں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو اور اس بات سے عبرت حاصل کرو کہ دنیا میں لوگ محی ہو کر بھی ظالم ہوتے ہیں اور ممیت ہو کر بھی ظالم ہوتے ہیں کئی ایسے ہیں جو احیاء کے سامان کر ہیں مگر پھر بھی وہ ظالم ہیں اور کئی ایسے ہیں جو امانت کے سامان کر رہے ہیں مگر پھر بھی وہ ظالم ہیں۔لیکن مومن کی یہ حالت نہیں ہوتی۔وہ محی بنتا ہے تب بھی اس پر رحم کیا جاتا ہے اور ممیت بنتا ہے تب بھی اس پر رحم کیا جاتا ہے۔وہ قتل کرتا ہے تب بھی اسے ثواب ملتا ہے اور پیدائش کا موجب بنتا ہے تب بھی اسے ثواب حاصل ہوتا ہے۔پس ایسے انسان بننے کی کوشش کرو تاکہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس کے نتیجہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہ ہو۔" وو (الفضل 12 نومبر 1941ء) 1 وَلَوْ لا دفع اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ دِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسْجِدٌ (الحج: 41) 2 الماعون: 5 الماعون : 7 4 البقرة: 217 5 الشعراء : 4 6 اسد الغابة جلد 5 صفحہ 481 مطبوعہ ریاض 1280ھ