خطبات محمود (جلد 22) — Page 512
* 1941 512 خطبات محمود نہ ہوتا۔پچاس ہزار ایکڑ اراضی بھی دس نسلوں کے بعد 35،35 ایکٹر رہ جاتی اور وہ بھی اس صورت میں کہ دو دو ہی لڑکے فرض کئے جائیں حالانکہ بعض لوگوں کے لڑکے تین، چار ، پانچ، چھ ، سات، آٹھ ، نو، دس تک بھی ہو سکتے ہیں اور اگر اتنے اتنے لڑکے ہوتے تو آج ایک ایک کنال زمین بھی ان کے حصہ میں نہ آتی۔تو یورپ نے خدائی قانون کو تو اس لئے چھوڑا تھا کہ اس سے ان کی عظمت اور وقار میں اضافہ ہو گا۔مگر ایسا غلامی کا طوق ان کے گلے پڑا کہ آج پچھتاتے پھرتے ہیں۔بچے مذہبی یعنی اسلام میں بھی مولویوں نے کئی باتیں داخل کر دیں اور کئی بہانے نکالے کہ خدا تعالیٰ کے احکام سے کس طرح بچا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ فلاں حکم سے بچنے کا فلاں حیلہ ہے اور فلاں سے بچنے کا فلاں۔اور پورا زور لگایا کہ کسی طرح ایسے حیلے تراش لئے جا سکیں جن سے خدا تعالیٰ کے احکام کو نہ ماننا پڑے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ خوب یاد رکھو تم اس سے باہر نہیں نکل سکتے اور جب بھی نکلو گے خدائی سلطان کے ساتھ نکلو گے ورنہ اپنے حیلے بہانوں سے اور بھی تکالیف میں مبتلا ہو جاؤ گے۔چنانچہ دیکھ لو۔مولویوں نے جو حیلے بہانے نکالے ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام چھوٹا اور ساتھ ہی وہ عزت بھی جاتی رہی جو مسلمانوں کو حاصل تھی۔وہ دنیوی لحاظ سے بھی ایسے ذلیل ہو گئے کہ آج جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔کجا یہ حالت تھی کہ ایک مسلمان بادشاہ ذرا کا اظہار کرتا تو سارا یورپ تھرا اٹھتا تھا اور کُجا یہ کہ آج اگر ساری اسلامی حکومتیں مل کر بھی کسی ایک بڑی یوروپین حکومت کا مقابلہ کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتیں۔افغانستان، عراق، عرب، ایران، مصر اور ترکی سارے مل کر بھی اگر انگریزوں کا مقابلہ کرنا چاہیں تو چھ ماہ نہیں کر سکتے۔اگر سارے مل کر روس کا مقابلہ کرنا چاہیں تو چھ ماہ نہیں کر سکتے۔سارے مل کر جرمنی کا مقابلہ کرنا چاہیں تو چھ ماہ نہیں کر سکتے، امریکہ کا مقابلہ کرنا چاہیں تو چھ ماہ نہیں کر سکتے۔ایشیائی طاقت جاپان کا مقابلہ بھی چھ ماہ نہیں کر سکتے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے۔کجا یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کا بھی